چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بیان پر بھی سخت اعتراض، 4 سال تک کیا عدالت خاموش تماشائی رہے گی، جسٹس بی آر گوائی کا ریمارک، آج بھی سماعت جاری رہے گی
حیدرآباد۔/2 اپریل، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے بی آر ایس کے منحرف ارکان کے خلاف کارروائی میں اسپیکر تلنگانہ اسمبلی کی جانب سے تاخیر پر دوبارہ ناراضگی جتائی ہے۔ سپریم کورٹ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے اس بیان پر بھی اعتراض کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں کوئی ضمنی چناؤ نہیں ہوگا۔ بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ اور بی آر ایس ارکان اسمبلی کوشک ریڈی اور ویویکانند کی جانب سے دائر کی گئی دو علحدہ درخواستوں کی آج جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹائن جارج مشیلا پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ بی آر ایس قائدین کی درخواستوں میں شکایت کی گئی ہے کہ اسپیکر اسمبلی منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کی کارروائی میں تاخیر کررہے ہیں۔ بنچ نے اسپیکر اور سکریٹری لیجسلیچر سے منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کے معاملہ میں تاخیر پر سوال کیا۔ بنچ نے سکریٹری لیجسلیچر کی جانب سے سنگل جج کے احکامات کو چیلنج کرنے کے بارے میں بھی استفسار کیا ۔ سنگل جج نے اسپیکر کو منحرف ارکان کے خلاف مقررہ مہلت کے دوران کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ جسٹس بی آر گوائی نے سوال کیا کہ جب سنگل جج نے منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کا شیڈول طئے کرنے کی ہدایت دی تھی تو پھر ان کے خلاف اپیل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ جسٹس بی آر گوائی نے بی آر ایس کی جانب سے داخل کی گئی ایس ایل پی کی سماعت پر اعتراض کے بارے میں بھی سوال کیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ دستور کے محافظ کی حیثیت سے ہے اور اگر اسپیکر چار برسوں تک کوئی کارروائی نہ کریں تو کیا عدالت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی۔ تلنگانہ اسپیکر کی جانب سے سینئر قانون داں مکل روہتگی نے بحث کی اور کہا کہ عدالتوں کی جانب سے اسپیکر کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے فیصلہ کے بعد قانونی ریویو کیا جاسکتا ہے لیکن فیصلہ سے قبل انہیں کوئی ہدایت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ انحراف جیسے حساس معاملات میں عدالت اسپیکر کو کسی مقررہ مدت میں کارروائی کی ہدایت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی تجاویز کو قبول کرنا اسپیکر کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دستوری ادارہ دوسرے دستوری ادارہ پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ جسٹس بی آر گوائی نے اس موقع پر مداخلت کی اور کہا کہ کیا ہم اسپیکر کو کوئی ہدایت یا ان سے اپیل نہیں کرسکتے؟ اگر اسپیکر چار برسوں تک کوئی کارروائی نہیں کریں تو کیا عدالت خاموش تماشائی بنی رہے گی۔ مکل روہتگی نے وضاحت کی کہ اسپیکر کا فیصلہ درخواست گذاروں کی خواہش اور مرضی کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ درخواست گذاروں نے 18 مارچ 2024 کو اسپیکر سے شکایت کی اور اسپیکر نے 10 ارکان اسمبلی کو 16 جنوری 2025 کو نوٹس جاری کی ہے۔ بنچ نے مکل روہتگی اور بی آر ایس کے وکیل سندرم کی بحث کی سماعت کے بعد کل بھی مقدمہ کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سماعت کے دوران بی آر ایس کے وکیل نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں ضمنی انتخابات نہیں ہوں گے۔ جسٹس بی آر گوائی نے چیف منسٹر کے بیان پر حیرت اور ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا یہ بیان دستور کے شیڈول 10 کی خلاف ورزی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس بی آر گوائی نے اسپیکر کی تاخیر کے مسئلہ پر کئی ریمارکس کئے۔ واضح رہے کہ بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی نے مختلف اوقات میں انحراف کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ سپریم کورٹ نے منحرف ارکان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بیشتر ارکان نے سپریم کورٹ میں حلفنامہ دائر کرتے ہوئے انحراف کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے خیرسگالی ملاقات کی تھی جسے میڈیا میں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کا یہ معاملہ فیصلہ کن موقف اختیار کررہا ہے۔ بی آر ایس کو امید ہے کہ سپریم کورٹ منحرف ارکان کے خلاف سخت موقف اختیار کرے گا۔1