سابقہ دور حکومت میں 25 ہزار 672 کروڑ کا غلط استعمال ، 6121 کسانوں کی اموات : وزیر ڈی سریدھر بابو
حیدرآباد۔ 25۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر ڈی سریدھر بابو نے بی آر ایس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت راشٹرسمیتی کسانوں کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں ’رعیتو بندھو‘ کے نام پر25ہزار 672 کروڑ کا غلط استعمال کیا اور حکومت کی اس اسکیم سے مستحق کسانو ںکو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ۔ مسٹر ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ 2014تا2022 کے دوران تلنگانہ میں جملہ 6121 کسانو ںکی اموات واقع ہوئی ہیں اور ان اموات کے لئے اس وقت کی حکومت ذمہ دارہے۔ انہو ںنے بتایا کہ موجودہ ریاستی حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے اعداد و شمارکا جائزہ لینے کے بعد یہ تعداد منظرعام پر آئی ہے جس میں بتایا کہ گیا ہے کہ اس مدت میں 6121کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ انہو ںنے کسانوں کے مسائل اٹھانے والے بی آر ایس قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دامن میں جھانکیں اور اس بات کا پتہ لگائیں کہ ان کے دور حکومت میں کسان کن حالات میں زندگی گذار رہے تھے۔مسٹر ڈی سریدھر بابو نے بتایا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کسانو ںکی حالت انتہائی ابتر تھی بالخصوص اراضیات کرایہ پر حاصل کرتے ہوئے زراعت کرنے والے زراعت پیشہ مزدوروں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ انہو ںنے بی آر ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس نے فاضل آمدنی والی ریاست تلنگانہ کو قرض میں مبتلاء کر دیا اور مقروض ریاست عوامی حکومت کے حوالہ کی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں عوامی حکمرانی کے آغاز کے بعد حکومت تلنگانہ نے انتخابات سے قبل کئے گئے وعدہ کے مطابق 21ہزار کروڑکسانوں کے قرض معاف کئے ہیں جو کہ ریاستی حکومت کے وعدہ پر برقرار رہنے کی دلیل ہے۔ریاستی وزیر نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند کریں اور جھوٹے پروپگنڈہ کو ترک کرتے ہوئے زمینی حقائق پر بات کریں۔ مسٹر ڈی سریدھر بابو نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ میڈیا کے ذریعہ حقائق کو پیش کرنے کے نام پر جھوٹا پروپگنڈہ پھیلانے کے بجائے عوام کے درمیان پہنچیں تب ہی انہیں اندازہ ہوگا کہ ریاست میں عوامی حکومت کے دور میں کس طرح فلاحی کام جاری ہیں اور حکومت کے متعلق عوام میں کس قدر مثبت رجحان پایا جارہا ہے۔3