بی آر ایس کو صرف 25 نشستیں حاصل ہوں گی: ریونت ریڈی

   

حکومت کی ناکامیوں پر کے سی آر کو مباحث کا چیلنج، اسمبلی کا سیاسی فائدہ کیلئے استعمال
حیدرآباد۔/8اگسٹ، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ شہیدان تلنگانہ کی یادگار کے قریب چیف منسٹر کے سی آر کی تلنگانہ سے دھوکہ دہی پر مباحث کیلئے تیار ہیں۔ اگر چیف منسٹر تیار نہ ہوں تو کے ٹی آر یا ہریش راؤ کو بھیج سکتے ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کو 25 سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں ہوں گی۔ شکست کے خوف سے بوکھلا کر کے سی آر کانگریس پارٹی پر تنقید کررہے ہیں۔ اسمبلی کو سیاسی مقصد براری کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر میں ہمت ہو تو وہ 9 سالہ کارکردگی پر مباحث کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ باپ اور بیٹے کا رویہ ڈکٹیٹر شپ کا ہے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر پر اس وقت کی ٹی آر ایس کی جانب سے رکاوٹ پیدا کی گئی تھی۔ ریونت ریڈی نے آئندہ الیکشن میں کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سروے رپورٹس کانگریس کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر نے کانگریس کے خلاف ناشائستہ ریمارکس کئے ہیں جس کا جواب انتخابات میں عوام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر چندرا بابو نائیڈو کے شاگرد ہونے الزام عائد
کیا جارہا ہے جبکہ کے سی آر خود تلگودیشم میں چندرا بابو نائیڈو کے قریب تھے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ میں چندرا بابو نائیڈوکا شاگرد نہیں بلکہ ساتھی ہوں۔ ایم ایل سی الیکشن جیتنے کے بعد میں نے تلگودیشم میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ کے سی آر نے چندرا بابو نائیڈو کے حامی کے طور پر سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی کا موقف ابتداء سے واضح ہے۔ پارلیمنٹ میں کانگریس ارکان اسمبلی نے مسلسل احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو علحدہ ریاست کی تشکیل پر مجبور کیا۔