پارٹی میں گروہ واریت ، اعلیٰ قیادت میں سب کچھ ٹھیک نہیں
حیدرآباد۔12 جنوری(سیاست نیوز) بھارت راشٹرسمیتی قائدین میں گروہ واریت فروغ پانے لگی ہے یا اپنے اپنے طریقہ کار سے پارٹی چلانے کے معاملہ میں کہا سنی جاری ہے!پارٹی کے دوسرکردہ قائدین کے درمیان جاری سرد جنگ اب برسرعام ہونے لگی ہے اور پارٹی کارکن اور قائدین بھی اس بات کو محسوس کرنے لگے ہیں کہ پارٹی اعلیٰ قیادت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق گذشتہ یوم تلنگانہ بھون میں محبو ب آباد ضلع کے پارٹی قائدین و کارکنوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پارٹی کے سرکردہ قائدین کے درمیان لفظی تکرار نمایاں دیکھی گئی اور شہ نشین پر ہونے والی اس تکرار کو اجلاس کے شرکاء نے بھی محسوس کیا ۔سابق چیف منسٹر کے دونوں رشتہ دار ہونے کے سبب دونوں سرکردہ قائدین کے درمیان کوئی قائد مداخلت نہیں کرپاتے ہیں لیکن برسوں سے جاری گروہ واریت اب اقتدار سے محرومی کے بعد کھل کرسامنے آنے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر ان دونوں اہم قائدین کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات میں اضافہ ہوتا ہے تو پارٹی کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔بھارت راشٹرسمیتی کے اقتدار سے محرومی کے بعد ان دونوں قائدین کے درمیان پائی جانے والی دراڑ کے سلسلہ میں کئی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں لیکن کسی بھی گوشہ کی جانب سے اس بات کی توثیق نہیں کی گئی مگر اب جب پارٹی قائدین اور کارکنوں کے سامنے ہی دونوں قائدین کے درمیان اختلاف رائے کھل کر سامنے آنے لگا ہے تو کہا جا رہاہے کہ پارٹی کے دیگر قائدین اب دونوں میں مضبوط قائد کے گروپ کا حصہ بننے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ بھون میں اجلاس کے بعد بھی دونوں قائدین کے درمیان لفظی تکرار ہوئی اور اس لفظی تکرار کے بعددونوں ہی قائدین تلنگانہ بھون سے روانہ ہوگئے لیکن ان کے درمیان ہوئی تکرار موضوع بحث بن چکی ہے اور خود بی آر ایس پارٹی قائدین اس بات سے حیرت زدہ ہیں اور دونوں قائدین کے کام کرنے کے طریقہ کار میں پائے جانے والے اختلاف کے سلسلہ میں چہ می گویاں کرنے لگے ہیںاور کہہ رہے ہیں کہ فی الحال پارٹی کو عوامی قائد کی ضرور ت ہے۔3