پولیس تحقیقات جاری ، بھیڑبکریوں کے معاملے یں 2.10 کروڑ ، خنزیر کے معاملے میں 1.20 کروڑ کا غبن
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے دور حکومت میں ہوئی بھیڑ بکریاں اور خنزیر اسکامس کی اب تحقیقات شروع ہوچکی ہیں ۔ بھیڑ بکریاں اسکام سے متعلق مقدمہ گریٹر حیدرآباد کے گچی باولی پولیس اسٹیشن میں درج ہوا ہے اور پولیس تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ خنزیر اسکام کا مقدمہ ضلع محبوب نگر کے جڑچرلہ میں پیش آیا ہے ۔ پولیس تحقیقات میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں کئی بے قاعدگیاں ، بے ضابطگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہیں ۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ایک ایک کر کے منظر عام پر آرہے ہیں ۔ عہدیدار اور بی آر ایس کے قائدین ایک کے بعد دیگر بے نقاب ہورہے ہیں ۔ تحقیقات کا عمل شروع ہوتے ہی بی آر ایس قائدین اور عہدیداروں میں ڈر و خوف پیدا ہوگیا ہے ۔ ان اسکامس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بی آر ایس کے قائدین کانگریس حکومت پر سیاسی انتقام لینے کے الزامات عائد کررہے ہیں ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں بھیڑ بکریوں کی تقسیم کا آغاز کیا گیا اس اسکیم کے تعلق سے کئی الزامات عائد ہوئے تھے ۔ اس اسکام کی پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے ۔ گچی باولی پولیس نے اس معاملے میں لائیو اسٹاک کمپنی کے مالک معید کے ساتھ دو اے ڈیز کیشوسائی اور روی کمار کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔ تحقیقاتی حصہ کے طور پر نگران دو ڈپٹی ڈائرکٹرس کے خلاف بھی الزامات عائد ہوئے تھے ۔ جملہ 133 بھیڑ بکریوں کے یونٹس کی تقسیم کے حوالے سے کسانوں کے کھاتے میں 2.10 کروڑ روپئے جمع ہونا تھا ۔ تاہم پولیس کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ یہ رقم آندھرا پردیش کے کئی کھاتوں میں جمع ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے ۔ اضلاع پرکاشم ، گنٹور کے کسانوں نے بھیڑ بکریوں کو فروخت کیا ہے ۔ لیکن یہ رقم اضلاع و جیانگرم ،سریکاکولم اور مشرقی گوداوری کے لوگوں کے کھاتوں میں جمع کرائی گئی ہے ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ رقم بے نامی کھاتوں میں جمع کی گئی ہے ۔ تحقیقات میں مزید پیشرفت کے لیے پولیس آندھرا پردیش پہونچکر تحقیقات کرے گی ۔ گذشتہ ماہ 18 کسانوں کی جانب سے درج کی گئی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہے ۔ بی آر ایس کے قائدین نے ضلع محبوب نگر کے جڑچرلہ میں خنزیروں کی روک تھام کے نام پر 1.20 کروڑ روپئے کا غبن کرلیا گیا ہے ۔ اس اسکام میں میونسپل چیرپرسن لکشمی کے شوہر رویندر کا کلیدی رول رہا ہے ۔ پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے ۔ اس سلسلہ میں چند افراد کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا اور تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ 88 ٹن خنزیروں کو پکڑ کر دوسری ریاستوں میں فروخت کئے گئے گذشتہ سال ماہ ستمبر میں 80 ٹن خنزیر 20 ٹرکوں میں بھر کر منتقل کیے گئے اور بڑی رقم وصول کی گئی پھر دسمبر میں مزید 8 ٹن خنزیروں کو منتقل کیا گیا ۔ پولیس تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ فی خنزیر 139 روپئے کلو ٹاملناڈو اور کرناٹک میں فروخت کیا گیا ۔ اس معاملے میں میونسپلٹی میں کوئی قرار داد منظور نہیں کی گئی اور نہ ہی عہدیداروں سے اجازت لی گئی ۔ خنزیروں کی فروخت سے جو رقم حاصل ہوئی وہ بلدیہ کے کھاتے میں بھی جمع نہیں کی گئی ۔۔ 2