کے سی آر نے بنجر اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات پر عمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا
حیدرآباد۔/2 اپریل، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت کے دوران حیدرآباد میں ہزاروں کروڑ مالیت کی سرکاری اراضیات کو تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل اینڈ انفرااسٹرکچر کارپوریشن نے ایچ ایم ڈی اے کے زیر اہتمام نیلام کیا گیا۔ رائے درگم، خانہ میٹ، منی کنڈہ، نارسنگی جیسے انتہائی قیمتی علاقوں میں تقریباً 500 ایکر اراضی ایچ ایم ڈی کے ذریعہ کوکہ پیٹ، خانہ میٹ، راجندر نگر، بدویل، باچو پلی، ترور، بہادر پلی، کرمل گوڑہ، میڈی پلی، کاوڈی پلی، شاہ آباد، اچل بھاگیت میں 500 ایکر اراضی کو فروخت کیا گیا۔ سال 2021 میں کوکہ پیٹ میں 65 ایکر اراضی کو نیلام کیا گیا جس سے 2,729 کروڑ روپئے وصول ہوئے۔ خانہ میٹ میں 24 ایکر اراضی کو نیلام کیا گیا جس سے ایک ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ آمدنی ہوئی۔ بدویل، راجندر نگر میں 100ایکر اراضی کو نیلام کرنے پر 3625 کروڑ روپئے، کوکہ پیٹ نیوپولس میں 45.33 ایکر اراضی فروخت کرنے پر 2,319.60 کروڑ روپئے، باچو پلی میں 111 کروڑ روپئے، ترور میں 400کروڑ روپئے وصول ہونے کا سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے۔ کوکہ پیٹ میں ایک ایکر اراضی 100 کروڑ روپئے میں فروخت ہوئی تھی۔ سرکاری اراضیات فروخت کرنے پر اس وقت کے سی آرحکومت پر بڑے پیمانے پر تنقیدیں ہوئی تھیں، اُس وقت بحیثیت چیف منسٹر کے سی آر نے کہا تھا کہ بنجر اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کرنے پر اعتراض کیوں ہے۔ اب عدلیہ کے ذریعہ قانونی طور پر حاصل ہوئی اراضی کو حکومت اپنی تحویل میں لینے پر بی آر ایس احتجاج کررہی ہے۔ اس وقت1000 سے زیادہ ایکر اراضی فروخت کرنے پر خاموش رہنے والی بی جے پی اب ایچ سی یو اراضی کے مسئلہ پر طلبہ کے ساتھ ملکر احتجاج کررہی ہے۔2