بی ایس ایف جوانوں پر حملے کا معاملہ ، مزید 8 ملزمین گرفتار

   

اگرتلہ، 6 نومبر (یو این آئی) تریپورہ پولیس نے سپاہی جالا ضلع کے آشاباڑی میں سرحدی حفاظتی دستے (بی ایس ایف) کے جوانوں پر ہوئے حملے کے معاملے میں مزید 8 ملزمین کو گرفتار کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں گرفتار افراد کی کل تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی ہے ، جبکہ ایک ملزم اب بھی فرار ہے ۔ پولیس نے یہ کارروائی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا کی جانب سے ریاست کے اعلیٰ حکام اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس بلائے جانے کے ایک دن بعد جمعرات کی دیر رات کی۔ اجلاس میں امن و قانون کی صورت حال کا جائزہ لینے اور آشاباڑی واقعے پر غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس کو سرحد پار اسمگلنگ کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے اور حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں چیف سکریٹری جے کے سنہا، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل پولیس جی ایس راؤ، داخلہ سکریٹری ابھیشیک سنگھ، بی ایس ایف کی انسپکٹر جنرل پرنسی رانی اور مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور آسام رائفلز کے نمائندے شامل ہوئے ۔ اعلیٰ حکام نے وزیر اعلیٰ کو واقعے کے حالات، اب تک کی تحقیقات کے نتائج اور تریپورہ پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کی اطلاع دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف آئی آر میں نامزد 19 افراد میں سے 10 کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا تھا۔
ڈاکٹر ساہا نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے ۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ واقعے کے ذمہ دار تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔
وزیر اعلیٰ نے سرحد پار اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات کرنے کو کہا۔ انہوں نے دہرایا کہ ریاست میں امن و قانون برقرار رکھنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ 3 نومبر کو پیش آیا تھا۔ اس دن آشاباڑی علاقے میں ڈیوٹی انجام دے رہے بی ایس ایف کے 4 جوانوں پر مشتبہ اسمگلروں اور مقامی گاؤں والوں نے مبینہ طور پر حملہ کر دیا تھا، جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے ۔