بی جے پی ارکان کی معطلی پر ریونت ریڈی کو زیادہ دکھ ہوا

   

کے ٹی آر کا ریمارک، بھٹی وکرمارکا اچھے آدمی لیکن پارٹی میں ان کی نہیں چلتی
حیدرآباد۔10۔ مارچ (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے آج اسمبلی میں کانگریس پارٹی اور صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کے طرز عمل پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ریاستی صدر کے بارے میں جتنا کم کہا جائے بہتر ہوگا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بھٹی وکرمارکا اچھے آدمی ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ کانگریس میں بھٹی وکرمارکا کی نہیں چلتی، وہاں بدعنوانیوں میں ملوث افراد موجود ہیں اور وہی پارٹی کو چلارہے ہیں۔ کانگریس کی یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کے ٹی آر کے بیان پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایوان میں غیر موجود افراد پر تنقید کرنا اسمبلی قواعد کی خلاف ورزی ہے جس پر کے ٹی آر نے وضاحت کی کہ انہوں نے پارٹی صدر کا نام نہیں لیا ہے صرف کانگریس کے صدر کہتے ہوئے اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹی وکرمارکا کی تعریف کرنے میں برائی کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانیوں میں ملوث شخص کی پشت پناہی کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کے عوام وشاکھاپٹنم میں اسٹیل پلانٹ کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف بی جے پی سنگارینی کالریز کو خانگیانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے ہمیں چوکسی کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں کانگریس ارکان کی تعداد زیادہ ہے لیکن تلنگانہ کے مفادات کے حق میں آواز اٹھانے تیار نہیں۔ کانگریس ارکان پارلیمنٹ میں تنقید کرنے کے بجائے حیدرآباد میں بیانات دے رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے ریمارک کیا کہ اسمبلی میں بی جے پی ارکان کے پوڈیم میں آنے پر اسپیکر نے معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے دن بی جے پی صدر سے زیادہ کانگریس کے صدر کو بی جے پی ارکان کی معطلی سے تکلیف پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ارکان کی معطلی پر حکومت کو کافی دکھ ہے۔ بی جے پی ارکان کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی چاہئے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی اور کانگریس کے درمیان کوئی معاہدہ تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور آباد اسمبلی اور نظام آباد و کریم نگر پارلیمانی نشست کے انتخابات میں دونوں نے مل کر کام کیا تھا اور اب باہر بھی مل کر کام کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں کئی شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ عوام میں دونوں پارٹیوں کی ملی بھگت کے کافی چرچے ہیں۔ر