بی جے پی اور بی آر ایس کی دہلی میں دوستی ، گلی میں کشتی

   

کونڈا وشویشور ریڈی کا ریمارک، بی جے پی پر عوام کا بھروسہ ختم ہوگیا
حیدرآباد۔19۔مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ بی جے پی میں ناراض سرگرمیوں کے دوران سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی نے بی جے پی اور بی آر ایس میں دوستی کا الزام عائد کرتے ہوئے پارٹی میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ کونڈا وشویشور ریڈی جو کانگریس سے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ، نئی دہلی میں کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس دہلی میں دوستی اور گلی میں کشتی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب اسکام میں چیف منسٹر کی دختر کویتا کی گرفتاری اور جیل بھیجنے کے بارے میں ہر کسی کو یقین ہوچکا تھا لیکن کویتا کی عدم گرفتاری سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان معاہدہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ دونوں پارٹیاں خفیہ مفاہمت کرچکی ہیں۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ خفیہ مفاہمت کے سبب تلنگانہ میں بی جے پی کی پیش قدمی مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جوپلی کرشنا راؤ اور پی سدھاکر ریڈی کی بی جے پی میں شمولیت کے امکانات بھی ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں نئی علاقائی پارٹی کے قیام کے امکانات نہیں ہیں۔ اگر کوئی نئی پارٹی قائم کرتا ہے تو کے سی آر کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی کسانوںکو مفت برقی سربراہی کی مخالفت نہیں کی۔ر