بی جے پی اور کانگریس عوامی مفادات کو نقصان پہونچانے میں مصروف

   

نظام آباد۔10 جون ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سابق وزیر و بالکنڈہ رکن اسمبلی پرشانت ریڈی نے کانگریس اور بی جے پی حکومتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتیں کسانوں، غریبوں اور عام عوام کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کی قلت کے باعث کسان شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور کھاد کے حصول کے لئے دربدر بھٹکنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ وہ ڈچپلی منڈل مرکز کے جی کنونشن ہال میں منعقدہ نظام آباد رورل اسمبلی حلقہ بی آر ایس رکنیت سازی اور خصوصی نظرثانی مہم کے تیاری اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں سابق ارکان اسمبلی باجی ریڈی گووردھن، بیگالہ گنیش گپتا، جیون ریڈی، ہنمنت شِنڈے، سریندر، وی جی گوڑ اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ مسٹر پرشانت ریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت کی جانب سے یوریا کی فراہمی کے لیے متعارف کردہ ایپ کسانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ ایپ نظام کو فوری طور پر ختم کرکے سابقہ طریقہ کار بحال کیا جائے تاکہ کسانوں کو سوسائٹیوں کے ذریعے براہ راست یوریا فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کسانوں کو 24 گھنٹے معیاری اور بلا تعطل مفت برقی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ بی آر ایس دور حکومت میں یہ سہولت موثر انداز میں فراہم کی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کسان آج ’’ایپ ہٹاؤ، باپو لاؤ‘‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ باجی ریڈی گووردھن نے الزام لگایا کہ رورل حلقہ میں کانگریس قائدین کی سرپرستی میں ریت، مٹی اور دیگر وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری ہے جبکہ اقتدار سے قبل کیے گئے انتخابی وعدے اب تک پورے نہیں کیے گئے۔ جیون ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کی شناخت اور ریاستی تشخص کے تحفظ میں کے چندر شیکھر راؤ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ ہنمنت شِنڈے نے کانگریس حکومت کو دلت مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے وعدوں سے منحرف ہوچکی ہے۔ قائدین نے پارٹی کارکنوں سے رکنیت سازی مہم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کارکن کسی دباؤ یا مقدمات سے خوفزدہ ہوئے بغیر پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کریں۔ اجلاس میں مختلف منڈلوں کے قائدین، عوامی نمائندے اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھے۔