مسلمانوں کو ایک بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا ، مسلم تحفظات ختم کرنے کا اعلان ، بلڈوزرس کے ساتھ ریالی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بی جے پی تلنگانہ میں شمالی ہند کے سیاسی کلچر کو فروغ دے رہی ہے ۔ ریاست کے ایک بھی مسلم قائد کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔ دوسری جانب اسمبلی حلقہ پٹن چیرو بی جے پی کے امیدوار نندیشور گوڑ نے مسلمانوں میں ڈر و خوف پیدا کرنے کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لیے منظم کی گئی ریالی میں 50 سے زائد بلڈوزرس کو شامل کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ بی جے پی کی قومی قیادت تلنگانہ میں ڈبل انجن سرکار بنانے کا نعرہ دیتے ہوئے انتخابی میدان میں قسمت آزما رہی ہے ۔ بی جے پی اور جناسینا ایک دوسرے سے اتحاد کیا ہے ۔ 111 امیدواروں بالخصوص پرانے شہر سے بھی بی جے پی نے برائے نام ہی سہی ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔ دوسری جانب جناسینا نے بھی مسلمانوں کو نظر انداز کردیا ۔ جب کہ بی جے پی اقلیتی مورچہ کے کئی قائدین نے ٹکٹ کے لیے درخواستیں داخل کی تھی تاہم بی جے پی قیادت نے بی جے پی کے مسلم قائدین کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ان کی پارٹی میں کیا اہمیت ہے اس کی اوقات دکھا دی ہے ۔ یہاں تک کہ تلنگانہ بی جے پی اسٹیٹ کمیٹی میں نائب صدور ، جنرل سکریٹریز ، سکریٹریز ، ترجمان کے علاوہ دیگر عہدوں یہاں تک کے ارکان عاملہ کی فہرست میں بھی مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دی ہے ۔ یہی نہیں انتخابی مہم میں بی جے پی نے حساس اور متنازعہ مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی تلنگانہ میں مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں فراہم کئے جانے والے 4 فیصد مسلم تحفظات کو منسوخ کردینے کا اعلان کررہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے اضلاع میں مسلمانوں کے تار دہشت گردوں سے جڑے ہونے کا تاثر دے رہی ہے ۔ پرانے شہر میں پاکستانی ، بنگلہ دیشی اور روہنگیانی باشندے غیر قانونی طور پر مقیم ہونے کی تشہیر کرتے ہوئے ان کے تعلق سے عوام میں شکوک پیدا کی جارہی ہے ۔ سقوط حیدرآباد اور نظام کے متعلق غلط فہمیاں پھیلاتے ہوئے اکثریتی ووٹوں کو متحد کرنے کی منظم سازش پر عمل کررہی ہے ۔ ن