بی جے پی قیادت امتیازی سوچ کی حامل ‘ ہلدوانی واقعہ واضح مثال

,

   

کھرگے کے دورہ کے بعد مقام کا شدھی کرن ‘ دستور کی خلاف ورزی ۔ کانگریس ایم پی ششی تھرور کا پوسٹ

نئی دہلی 29 اگسٹ ( ایجنسیز ) کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ اترکھنڈ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے دورہ کے بعد اس مقام کے شدھی کرن کا واقعہ در اصل بی جے پی قیادت کی امتیازی سوچ کا نتیجہ ہے ۔ واضح رہے کہ ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں واقع رام لیلا میدان کے دورہ کے بعد اس مقام کو گنگا جل سے دھویا گیا تھا ۔ ششی تھرور نے سوشیل میڈیا پر ایک بیان پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی اصل اور بنیادی وجہ بی جے پی کا نظریہ ہے ۔ عذر ‘ افسوس اور بظاہر اختلاف کے ذریعہ اصل مسئلہ کو چھپایا نہیں جاسکتا ۔ یہ واقعہ در اصل بی جے پی قیادت اور اس کے نظریہ کی امتیازی ذہنیت کا نتیجہ ہے ۔ ہم کو اس وقاعہ کے ذمہ داروں کو بچنے کا موقع نہیں دینا چاہئے ۔ششی تھرور نے کہا کہ دستور ہند میں اس طرح کے ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ چھوت چھات کو ختم کردیا گیا ہے اور کسی بھی شکل میں ایسا طرز عمل ممنوع ہے ۔ حال ہی میں ہلدوانی میں جو کچھ ہوا ہے وہ صرف کانگریس صدر ملکارجن کھرگے پر حملہ نہیں ہے بلکہ یہ اس ملک کے ہر دلت شہری کی توہین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملکارجن کھرگے کا شخصی مسئلہ نہیں ہے ۔ ان کے ساتھ انصاف کیا جانا در اصل تمام دلتوں کے ساتھ انصاف ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے صدر اور ملک کے عوام کی خدمت کیلئے کئی دہوں سے جدوجہد کرنے والے لیڈر کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک بھر میں دلت شہریوں اور بچوں کو روزآنہ کس صورتحال سے گذرنا پڑتا ہوگا ۔ ششی تھرور نے کہا کہ ایسی حرکتوں کی محض مذمت کرتے ہوئے یا دیگر الفاظ کے ذریعہ چھپایا نہیں جاسکتا ۔ ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک در اصل قابل سزا جرم ہے اور اس پر کارروائی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سارے واقعہ کی اصل اور بنیادی وجہ بی جے پی کا نظریہ ہے ۔ محض عذر پیش کرتے ہوئے یا افسوس ظاہر کرتے ہوئے مسئلہ کو چھپانا ممکن نہیں ہوگا ۔ اس سے بی جے پی قیادت کی امتیازی سوچ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور مرکزی حکومت کو اس واقعہ پر محض زبانی افسوس کا اظہار کرنے کی بجائے قانونی کارروائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ در اصل کوئی سیاسی اتحاد کی ‘ معمولی تنازعہ کی یا معمول کی سیاسی مخالفت کی لڑائی نہیں ہے ۔ کانگریس پارٹی کی اصل لڑائی ملک کے دستور کو بچانے کی ہے اور دستور کی خلاف ورزی کرنے والی امتیازی نظریہ سے مقابلہ کرنے کی ہے ۔