دوا سے فائدہ ہوگا کہ ہوگا زہرِ قاتل سے
مرض کی کیا دوا ہے یہ کوئی بیمار کیا جانے
بی جے پی قائدین ویسے بھی سارے ملک میں انتہائی متنازعہ ریمارکس کرنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ایسے واقعات پیش آتے ہیں جہاں ذمہ دار عہدوں اور وزارتوں پر فائز افراد کی جانب سے انتہائی نازیبا اور غیرشائستہ ریمارکس اور تبصرے کئے جاتے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں اس کا کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ ان پر کسی طرح کا افسوس ظاہر کرتے ہیں۔ پارٹی کی اعلی قیادت سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ ایسے ریمارکس کرنے والوں کی تنبیہہ کریگی اور انہیں اس طرح کے بیانات و ریمارکس سے روکنے کی ہدایت دے گی تاہم ذہنی پستی کی انتہاء یہ ہے کہ بی جے پی کی اعلی قیادت کی جانب سے بھی ایسی کوئی ہدایت نہیں دی جاتی اور نہ ہی ایسے ریمارکس سے روکا جاتا ہے ۔ مرکزی وزراء ہوں کہ پارٹی کے اعلی عہدوں پر فائز افراد ہوں سبھی اس طرح کے ریمارکس کرتے ہیں جو انتہائی معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ بتدریج یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ ایک ریاست کے چیف منسٹر کے دستوری اور ذمہ دار عہدہ پر فائز افراد بھی اپنی ذہنی پستی کا مظاہرہ کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ان چیف منسٹروں کی فہرست میں سب سے پہلا نام تو اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کا آتا ہے ۔ انہوں نے ایک سے زائد مواقع پر ایسے ریمارکس کئے ہیں جو ان کی متعصب ذہنیت اور پستی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح تریپورہ کے چیف منسٹر کی جانب سے بھی غیرشائستہ ریمارکس کا سلسلہ اکثر و بیشتر جاری رہتا ہے ۔ ہریانہ کے ایک وزیر بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور اب آسام کے چیف منسٹر بھی اس مسئلہ میں سب سے دو قدم آگے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے خلاف ایسا ریمارک کیا ہے جو کسی بھی مہذب معاشرہ میں قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔ یہ سوال ایک ماں کے کردار پر سوال اٹھانے اور شکوک پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ یہ ریمارک ذہنی پستی کی انتہاء کو ظاہر کرتا ہے اور وہ بھی ایک ریاست کے چیف منسٹر ایسا ریمارک کر رہے ہیں ۔ ایسے ریمارکس کی سماج کے ہر گوشے کی جانب سے مذمت کی جانی چاہئے ۔
سیاسی قائدین کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقیدیں کرنا اور الزامات عائد کرنا یہ عام بات ہے اور سیاست میں یہ سب کچھ ہوتا ہے ۔ اختلاف مسائل اور پالیسیوں پر ہوتا ہے ۔ ذاتی بغض و عناد کی یا دشمنی کی ہندوستانی سیاست میںیا سماج میں کوئی گنجائش نہیںہوسکتی ۔ ہماری قدیم روایات رہی ہیں جہاںاختلاف رائے کا احترام کیا جاتا رہا ہے ۔ مخالفین کے ساتھ کسی طرح کا انتقامی رویہ کبھی ہندوستانی سیاست میں روا نہیں رکھا گیا ۔ لیکن اب سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی کی حدوں سے اور اخلاقی اعتبار سے انتہائی پستی میں ڈھکیلا جا رہا ہے ۔ چیف منسٹر آسام ہیمنتا بسوا شرما کا جو ریمارک راہول گاندھی کے خلاف کیا گیا ہے وہ ان کی اوچھی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ وہ سیاست میں اس طرح کے ریمارکس کرتے ہوئے نہ جانے کس کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس سے ان کی اوچھی اور گندہ ذہنیت کا پتہ ضرور چل گیا ہے ۔ سیاسی اختلاف کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کسی سے اس کی ولدیت پر سوال کیا جائے ۔ ایسی روایات کی بنیاد ڈالنے والے در اصل ہندوستان کی قدیم روایات اور اخلاقیات کو پامال کر رہے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ ایک ریاست کے چیف منسٹر کے انتہائی معتبر اور دستوری عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود ایسا کیا جا رہا ہے ۔ اس ریمارک کی سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سبھی جماعتوں کے قائدین کو مذمت کرتے ہوئے چیف منسٹر آسام کو معذرت خواہی پر مجبور کرنا چاہئے ۔
عوام کو اخلاقیات اور اصولوں کا درس دینے والے بی جے پی کے اعلی قائدین کو اس معاملے میں سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے چیف منسٹر آسام سے سر عام معذرت خواہی کروانی چاہئے یا پھر انہیں ان کے عہدہ سے برطرف کیا جانا چاہئے ۔ سیاست کو پستی میں ڈھکیلنے کیلئے بی جے پی نے جو رول ادا کیا ہے وہ کسی اور جماعت نے ادا نہیں کیا ہے لیکن جو تازہ ریمارک کیا گیا ہے وہ پستی کی حدوں کو بھی پار کر گیا ہے ۔ اس کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے ۔ بی جے پی کی اعلی قیادت اور خاص طور پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ میں ذرہ برابر بھی اخلاق باقی رہ گئے ہوں تو چیف منسٹر آسام کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔
