بی جے پی پسماندہ طبقات کی مخالف، تحفظات میں اضافہ پر نریندر مودی کو اعتراض کیوں؟

,

   

نئی دہلی میں ’ مہا دھرنا ‘ سے ریونت ریڈی کا خطاب، پریڈ گراؤنڈ پر 10 لاکھ افراد کے ساتھ جلسہ عام کا اعلان، لوک سبھا میں بی سی تحفظات کی منظوری کا مطالبہ

حیدرآباد۔/2اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ پسماندہ طبقات کیلئے 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تحفظات کے حق میں فیصلہ کیلئے مجبور کیا جائے گا۔ چیف منسٹر آج نئی دہلی میں جنتر منتر پر بی سی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ ’ مہا دھرنا‘ سے خطاب کررہے تھے جس کا مقصد تلنگانہ اسمبلی میں حال ہی میں منظورہ 42 فیصد تحفظات بل کو پارلیمنٹ میں منظور کرتے ہوئے دستور کے نویں شیڈول میں شامل کرنے کی مرکز سے مانگ کرنا تھا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا ، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء پونم پربھاکر، کونڈا سریکھا کے علاوہ کانگریس کے بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے شرکت کرتے ہوئے بی سی تنظیموں کے مطالبہ کی تائید کی۔ انڈیا الائینس کی حلیف جماعتوں ڈی ایم کے، این سی پی اور مجلس کے ارکان نے بھی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے 42 فیصد تحفظات کی تائید کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ بی سی تحفظات کی جدوجہد دراصل ایک دھرم یُدھ ہے۔ نریندر مودی کو منانے کیلئے ہم دہلی نہیں آئیں گے بلکہ نریندر مودی کو تلنگانہ پہنچ کر تحفظات کا اعلان کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کمزور طبقات کیلئے کانگریس حکومت نے 42 فیصد تحفظات کا بل منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت کو تحفظات بل کی منظوری پر کیا اعتراض ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نریندر مودی پارلیمنٹ میں منظوری اور دستور کے نویں شیڈول میں شامل کرنے سے کیوں کترارہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خود کا پسماندہ طبقات سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے نریندر مودی کو پسماندہ طبقات کی عزت نفس کا کوئی خیال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی تحفظات کیلئے تلنگانہ سے ’ بی سی گرجنا ‘ کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہاں سے ہم دہلی نہیں آئیں گے بلکہ نریندر مودی کو تلنگانہ کی گلی تک آنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی دفعہ 370 کو ختم کرنے کیلئے مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں بل منظور کیا اور اب وقف ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں بی جے پی کو اکثریت نہ ہونے کے باوجود یہ بل پیش کیا گیا لیکن تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کے بل کی پیشکشی میں کیا رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 42 فیصد تحفظات کی ملک کی 16 سیاسی پارٹیوں نے تائید کی ہے۔ کانگریس کے 100 ارکان پارلیمنٹ بل کی تائید کریں گے پھر بھی مودی حکومت بی سی تحفظات کے حق میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں بل پیش نہیں کرے گی تو ملک گیر سطح پر ایجی ٹیشن شروع کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد بی آر ایس حکومت میں باپ ‘ بیٹا اور دیگر رشتہ داروں کو روزگار حاصل ہوا جبکہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کانگریس حکومت کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر بی سی تحفظات بل پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہوگا تو وزیر اعظم نریندر مودی کو تلنگانہ کی گلیوں تک آنے کیلئے مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی سی تحفظات کی مخالفت بی جے پی کیلئے مہنگی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے کی بنیاد پر حکومت نے پسماندہ طبقات کو تعلیم اور روزگار میں 42 فیصد تحفظات کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 52 فیصد پسماندہ طبقات کیلئے محض 27 فیصد تحفظات ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے میں بی سی طبقات کی آبادی 56.36 فیصد درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی زیر اقتدار ایک بھی ریاست میں طبقاتی سروے نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بی سی تحفظات میں اضافہ کرنا نریندر مودی کے اختیار میں ہے لیکن انہیں تلنگانہ میں تحفظات میں اضافہ کی اجازت دینی چاہیئے۔ انہوں نے پریڈ گراؤنڈ پر 10 لاکھ افراد کے ساتھ بی سی تحفظات کے حق میں جدوجہد کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے راست سوال کیا کہ 42 فیصد تحفظات کی فراہمی پر انہیں کیا دشواری ہے اور اعتراض کیوں ہے۔1