بی جے پی کو ایک اور موقع دیا گیا تو تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کردے گی

,

   

ہندوؤں اور مسلمانوں کے خون کا رنگ لال ہی ہے ، بی جے پی کے قائدین نفرت پھیلا رہے ہیں : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی کو مرکز میں حکومت کرنے کا ایک اور موقع فراہم کرنے پر تلنگانہ کو دوبارہ آندھرا پردیش میں ضم کردینے کا دعویٰ کرتے ہوئے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی کو سبق سکھائے ۔ اسمبلی حلقہ بانسواڑہ کا دورہ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے 120 کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کئے جانے والے سدا پور ذخیرہ آب کا سنگ بنیاد رکھا ۔ ساتھ ہی سداپور گاوں میں ڈبل بیڈ روم مکانات کا بھی سنگ بنیاد رکھا اور منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے زیر قیادت حکومت تشکیل پانے کے بعد ملک میں ریلوے ، ایرانڈیا ، ایل آئی سی کے علاوہ کئی اداروں کو وزیراعظم نریندر مودی نے فروخت کردیا ۔ اگر مزید بی جے پی کو مزید اقتدار کا موقع فراہم کیا گیا تو تلنگانہ کو دوبارہ آندھرا پردیش میں ضم کردیا جائے گا اور ہم سب کو بھی فروخت کردیا جائے گا ۔ لہذا وہ عوام بالخصوص نوجوان طبقہ سے اپیل کرتے ہیں بی جے پی قائدین کے اچھل کود اور ہنگامہ آرائی سے ہرگز متاثر نہ ہو اور نہ ہی بی جے پی قائدین کے جھانسے میں آئے ۔ مرکزی حکومت تعاون کرے یا نہ کرے تلنگانہ ریاست تیزی سے ترقی کررہی ہے ۔ ٹی آر ایس کی فلاحی اسکیمات ملک کے لیے مثالی ثابت ہورہی ہیں ۔ ٹی آر ایس پارٹی سیاست ، مذاہب اور ذات پات سے بالاتر ہو کر عوام کو عوام کی نظروں سے دیکھتی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مذہب کوئی بھی ہو سب کے خون کا رنگ لال ہی ہوتا ہے ۔ بی جے پی کے قائدین منظم سازش کے تحت مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اُگل رہے ہیں ۔ ہر دن ایک نیا تماشہ کرتے ہوئے مذہبی جذبات بھڑکائے جارہے ہیں ۔ مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ ان کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ بی جے پی کے تمام قائدین کے جسموں میں زہر بھرا ہوا ہے ۔ 7 سالہ دور حکومت میں مودی نے تلنگانہ کے لیے کچھ نہیں دیا ہے ۔ سارے ملک کے لیے 157 میڈیکل کالجس منظور کئے گئے جس میں تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج نہیں دیا گیا ۔ ملک بھر میں 87 نوودئیے اسکولس منظور کئے گئے تلنگانہ کو ایک بھی منظور نہیں کیا گیا ۔ 8 نئے آئی آئی ایمز منظور کئے گئے تلنگانہ کو ایک بھی منظور نہیں کیا گیا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے بڑے پیمانے پر میڈیکل کالجس اور ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے ۔ نوجوان طبقہ جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام کرے ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لیے بڑے پیمانے پر تحریک چلائی گئی جیل گئے ، قربانیاں دی گئیں مگر وزیراعظم پارلیمنٹ کے دروازے بند کر کے بل منظور کرنے کی توہین کررہے ہیں ۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے استفسار کیا کہ کیا تلنگانہ ملک کا حصہ نہیں ہے ۔۔ ن