بی جے پی کی جیت میں کیا بنگلہ دیش کا کردار ہے؟

   

دیپ بالدر
بی جے پی کی غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کی کہانی کے ساتھ، ایک واضح طور پر بائیں بازو کی ریاست جو طویل عرصے تک ہندو ۔ مسلم تقسیم کو انتخابی بیانیے سے باہر رکھتی آئی تھی، اب ایسا نہ کر سکی۔ایک مضبوط کہانی درکار ہوتی ہے تاکہ ایک بنیادی طور پر سرخ (بائیں بازو کی) ریاست کو زعفرانی (دائیں بازو کی) میں بدلا جا سکے، گویا بیالٹ کے ذریعے ایک رنگین انقلاب۔ لیفٹ فرنٹ نے 34 طویل برسوں کے بعد 2011 میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے ہاتھوں اقتدار کھو دیا، لیکن بنرجی کے دور میں بھی مغربی بنگال بڑی حد تک بائیں بازو کا ہی رہا۔
درحقیقت، ترنمول کانگریس کی سیاست جس میں فلاحی پالیسیوں پر زور اور بڑی صنعت کے خلاف موقف (2006-08کی سنگور تحریک، جو ٹاٹا کے خلاف تھی، اور اقتدار میں رہتے ہوئے نئی سرمایہ کاری کو متوجہ نہ کر پانا)کو عام طور پر ریاست میں ‘‘بائیں سے بھی زیادہ بائیں’’ کہا جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ 4 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج بہت سے بنگال کے مبصرین کے لیے چونکا دینے والے ثابت ہوئے۔ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ، بی جے پی کی فیصلہ کن جیت کی ایک بڑی وجہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش بھی ہے۔
چاہے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیشی ہندوؤں کے ساتھ ہونے والا سلوک ہو، یا مٹوا برادری کی متحدہ ووٹنگ (جس کی جڑیں جدید بنگلہ دیش میں ہیں)، یا غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے باعث ریاست کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کا خوف۔یہ سب عوامل اہم رہے۔
حسینہ کا زوال، ہندوتوا کا عروج
دسمبر 2025 میں، ہندو سادھؤں اور ہندوتوا گروہوں کی قیادت میں ایک بڑا احتجاج کولکاتا میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر ہوا، جس میں دیپو چندر داس کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ایک ہندو گارمنٹ ورکر جسے پڑوسی ملک میں اسی ماہ ایک ہجوم نے قتل کر کے جلا دیا تھا۔ داس کا قتل ایک الگ تھلگ واقعہ تھا، لیکن بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملوں نے عالمی خبریں بنائیں اور مغربی بنگال میں سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا
داس کے قتل کی خبر پھیلنے کے بعد، مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی، جس سے سخت بحث و تکرار، جھڑپیں اور پھر کولکتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔
موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق، مظاہرین نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کچھ لوگوں کو یہ نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا: ‘‘یہ ریاستی پولیس نہیں ہے، یہ بنگلہ دیشی پولیس ہے۔ ان پولیس والوں نے سادھؤں کو لاٹھیوں سے مارا اور احتجاج کرنے والی خواتین کے کپڑے پھاڑ دیے،’’ ایک خبر میں کہا گیا۔
بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے ریاستی نائب صدر ارون شاہ کے لیے یہ صورتحال انتہائی حیران کن تھی۔ انہوں نے کہا: ‘‘سوچیے، زعفرانی لباس پہنے سادھوؤں کو کولکتہ کے دل میں عوام کے سامنے صرف اس لیے مارا جا رہا ہے کہ وہ دیپو چندر داس کے قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جو صرف ہندو ہونے کی وجہ سے مارا گیا۔ ممتا بنرجی کس کے ساتھ تھیں؟ نہ تو وہ بنگلہ دیشی ہندوؤں کے ساتھ تھیں اور نہ ہی مغربی بنگال کے ہندوؤں کے ساتھ،’’ شاہ نے دی پرنٹ کو بتایا
اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری نے فوری طور پر پانچ رکنی وفد کے ساتھ بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ہندو مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ممتا بنرجی حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔اس واقعے نے ادھیکاری کو اپنے اس بیانیے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دی کہ مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ میں 1.25 کروڑ غیر قانونی تارکینِ وطن شامل ہیں، جو بڑی حد تک بنرجی کی سرپرستی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا: ‘‘اس بار کوئی بھی وزیر اعلیٰ کو نہیں بچا سکے گا،جعلی ووٹنگ کے واقعات کم ہوں گے، جو لوگ جعلی ووٹ ڈالتے تھے انہیں نکال دیا جائے گا۔’’ یہ بات انہوں نے دیپو چندر داس کے قتل اور کولکتہ میں ہندو مظاہرین پر حملے سے کافی پہلے کہی تھی۔اس کے بعد سے بی جے پی کا بڑا بیانیہ یہ رہا ہے کہ جب 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں ہندو غیر محفوظ ہیں، تو مسلمان غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے بھارت آ سکتے ہیں اور ووٹر فہرستوں میں شامل ہو کر بنرجی کو انتخابی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
مٹوا عنصر
انیسویں صدی میں مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) میں ہری چند ٹھاکر کے قائم کردہ، مٹوا ایک سیاسی طور پر اہم بنگالی درج فہرست ذات کی برادری ہے، جس کا مغربی بنگال کی کئی اہم حلقوں میں اثر و رسوخ ہے۔اگرچہ بی جے پی نے مسلسل مٹوا برادری کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی، لیکن ایس آئی آر (SIR) کے تحت بڑی تعداد میں نام خارج کیے جانے کے باعث یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ ووٹ بینک زعفرانی پارٹی کے خلاف ہو جائے گا۔
ایان گوہا، جو برٹش اکیڈمی کے انٹرنیشنل فیلو ہیں اور یونیورسٹی آف سسیکس کے شعبہ بشریات سے وابستہ ہیں، نے بتایا کہ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ مٹوا برادری کے ایک بڑے حصے کو ایس آئی آر کی وجہ سے ووٹر فہرستوں سے خارج ہونا پڑا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس انتخاب میں بی جے پی کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ گوہا کے مطابق اس کی وجہ بنگلہ دیش ہے۔
گوہا نے کہا: ‘‘اگرچہ اس اخراج نے بے چینی اور مایوسی پیدا کی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ بی جے پی اب بھی ان کی پسندیدہ جماعت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ کے بعد کے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہونے والے وسیع پیمانے پر تشدد اور مظالم نے انہیں ہندو پناہ گزینوں کے طور پر ووٹ دینے پر آمادہ کیا ہے۔’’
گہا اسے ‘‘یادداشت کی سیاست’’ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘‘بنگلہ دیش کی صورتحال نے بی جے پی کی ‘یادداشت کی سیاست’ کو تقویت دی ہے، جو مٹوا-ناماسودرا برادری کو متحرک کرنے کے لیے مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش میں مذہبی مظالم کی یادوں کو اجاگر کرتی ہے—انہیں ایک نچلی ذات کے گروہ کے طور پر نہیں بلکہ ہندو پناہ گزینوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔’’گوہا نے کہا کہ وہ اپنے زمینی رابطوں سے یہ جان کر حیران ہوئے کہ مٹوا اکثریتی حلقوں میں حتیٰ کہ وہ لوگ بھی، جن کے نام یا ان کے خاندان کے افراد کے نام ایس آئی آر میں خارج کر دیے گئے تھے، بی جے پی کی انتخابی مہم میں سرگرمی سے شامل رہے، اس امید کے ساتھ کہ پارٹی اپنے حامی ہندو موقف کی وجہ سے انہیں شہریت کا درجہ اور ووٹنگ کے حقوق دلانے کے وعدے کو پورا کرے گی۔
ہندو ۔ مسلم سیاسی تقسیم بنگال جیسے بنیادی طور پر کثیرالثقافتی معاشرے میں ویسے کامیاب نہیں رہی جیسے دیگر مقامات پر ہوئی ہے۔ لیکن پڑوسی بنگلہ دیش میں ہونے والے حالات نے بنگال کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے اور بی جے پی کو اقتدار تک پہنچنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔