نئی لکچدار تعلیمی پالیسی متعارف ، طلبہ کو بیک وقت دو ڈگری کورسیس کرنے کا موقع
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : جے این ٹی یو حیدرآباد نے تکنیکی تعلیمی کورسیس جیسے بی ٹیک ، ایم ٹیک ، بی فارمیسی ، ایم فارمیسی دیگر تکنیکی کورسیس میں انقلابی پالیسیوں کو پیش کیا ہے ۔ کورسیس کے درمیان تعلیم ترک کرنے والوں کو ڈپلومہ سرٹیفیکٹس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 70 فیصد نصاب براہ راست اور 30 فیصد نصاب آن لائن میں پڑھانے کا اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے ۔ آن لائن تدریس کے لیے مختلف آئی آئی ٹیز کے فیکلٹیز کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا ۔ 182 ارکان پر مشتمل بورڈ آف اسٹیڈیز کا وائس چانسلر پروفیسر کے نرسمہا ریڈی نے آغاز کیا ہے ۔ اس اجلاس میں چند اہم فیصلے کئے گئے ہیں ۔ بی ٹیک میں داخلہ لینے والے طلبہ کورس کی تکمیل سے قبل دو یا تین سال میں ترک تعلیم کرنے پر انہیں نقصانات سے بچانے کے لیے ڈپلومہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چار سالہ کورس کی تکمیل پر ڈگری سرٹیفیکٹ فراہم کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ لچکدار تعلیمی نظام پر عمل کیا جارہا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم چار سالہ بی ٹیک کورس میں تین سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد چوتھے سال میں کہیں ملازمت کرنے کے بعد دوبارہ فائنل میں کورس مکمل کرنے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ کورسیس کے انٹرنلس ابھی تک 25 فیصد مارکس تھے۔ جس کو نئے نصاب میں 40 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے ۔ سالانہ امتحانات صرف 60 فیصد مارکس کے لیے منعقد کئے جائیں گے ۔ تعلیمی سال 2022-23 سے نئے تعلیمی نظام پر عمل آوری ہوگی ۔ بی ٹیک کو 160 کریڈٹ مختص کئے گئے ہیں ۔ طلبہ کو بیک وقت دو ڈگریاں مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے ۔ اب بی ٹیک کا طالب علم بی بی اے جیسے کورسیس میں بھی داخلہ لے سکتا ہے ۔ اس کیلئے طالب علم کو ایک کورس آف لائن دوسرا کورس آن لائن میں پڑھنا ہوگا ۔ نئے نصاب کے ڈیزائن کے لیے 13 بی او سیز قائم کئے گئے ہیں ۔۔ ن