بین الاقوامی سرحد پر پیپل کا درخت ہندو پاک دوستی کی مثال

,

   

سچیت گڑھ کو واگھا سرحد کی طرز پر فروغ ، کووڈ سے سیاحوں کی تعداد میں کمی

بین الاقوامی سرحد : ہند و پاک جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کے کٹر حریف ممالک ہیں بلکہ دشمن کہنا زیادہ مناسب ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں اور واقعات پر ایک دوسرے کے خلاف آمادہ جنگ ہوجاتے ہیں لیکن اس دشمنی کے ماحول میں لائن آف کنٹرول پر ایک ایسا قدیم پیپل کا درخت ہے جو دونوں ہی ممالک کیلئے دوستی کی ایک مثال بن گیا ہے جسے پیپل۔ 918 کہا جاتا ہے ۔ مذکورہ درخت ایک ایسے مقام پر ہے جہاں عام طور پر سناٹا رہتا ہے ۔ اس کا محل وقوع جموں کے سچیت گڑھ کے آکڑائے پوسٹ کے قریب ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جاریہ سال یکم جنوری سے 7 ستمبر تک وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریب جنگ بندی کی 3186 بار خلاف ورزی کی گئی جب کہ یکم جنوری تا 31 اگست ہند و پاک کی بین الاقوامی سرحد پر 242 بار دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ بہرحال ہندو و پاک کے درمیان ’’ کبھی کھٹے اور کبھی میٹھے ‘‘ تعلقات کا یہ سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے لیکن پیپل ۔918 دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک مثال بن کر آج بھی ڈٹا ہوا ہے ۔ ہندو دیو مالائی کہانیوں کے مطابق پیپل کے پیڑ کو بیحد مقدس تصور کیا جاتا ہے اور عام طور پر ایسے درخت کو کسی بھی شمشان گھاٹ کے باہر لگایا جاتا ہے جسے یمراج ( ملک الموت) کا درخت بھی کہا جاتا ہے ۔ ہند و پاک کی تقسیم کے دوران انسانوں نے سرحدیں بانٹ لیں لیکن پیپل کا یہ پیڑ جس پر 918 نمبر کندہ کیا ہوا ہے ، آج بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی مثال بنا ہوا ہے ۔ اس کی جڑیں اور شاخیں دونوں ممالک کی سرحدوں میں پائی جاتی ہیں ۔ حکومت جموں و کشمیر اب سچیت گڑھ کوواگھا سرحد کی طرز پرفروغ دینا چاہتی ہے تاکہ سیاحوں کو راغب کرتے ہوئے سیاست کے شعبہ کو فروغ دیا جاسکے ۔ تاہم کووڈ ۔ 19 وباء کی وجہ سے اس پر زیادہ کام نہیں ہوسکا لیکن بعد میں 2014 میں سچیت گڑھ کو ترقی دے کر وہاں سیاحوں کیلئے ایک خصوصی گارڈن جو چھت پر تعمیر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک واک وے بھی تعمیر کیا گیا ۔ بہرحال پیپل کے اس درخت کو لوگ قدرت کا کرشمہ بھی کہتے ہیں ۔ ہند و پاک کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہونے کے بعد حالانکہ یہاں وزیٹرس کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن پیپل کے درخت کو ہمیشہ دوستی کی مثال کے طور پر ہی جانا جائے گا ۔