بینکوں کو خانگیانے کے خلاف ملازمین کا حیدرآباد میں دھرنا

   

پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس ارکان مخالفت کریں گے،ونود کمار کا ملازمین سے اظہار یگانگت
حیدرآباد16۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) عوامی شعبہ کے بینکوں کو خانگیانے کے خلاف بینک ملازمین نے آج دھرنا منظم کیا ۔ ملک بھر میں بینک ملازمین آج سے دو روزہ ہڑتال کر رہے ہیں۔ ہڑتال کے طورپر آج یونائٹیڈ فورم آف بینک یونینس نے کوٹھی میں سنٹرل بینک آف انڈیا کے احاطہ میں دھرنا منظم کیا جس میں ہزاروں ملازمین نے حصہ لے کر بینکوں کو خانگیانے کی مخالفت کی۔ نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے دھرنا کیمپ پہنچ کر احتجاجیوں سے اظہار یگانگت کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنا خطرناک ہوگا۔ ملک میں عوامی شعبہ کے ادارے عوام کی بہتر انداز میں خدمت کر رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں خانگی شعبہ کو سونپ کر حکومت عوام کو محروم کرنا چاہتی ہے ۔ بینکوں کو خانگیانے سے معیشت پر منفی اثر پڑے گا۔ مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں بینکوں کو خانگیانے سے متعلق بل پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مختلف بینکوں کے ملازمین نے مجوزہ بل سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ ملازمین نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ یونین قائدین کا الزام ہے کہ حکومت بعض کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے اہم سرکاری ادارے حوالے کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1969 ء میں خانگی بینکوں کو قومیانے کے فیصلہ سے دیہی علاقوں تک بینکنگ خدمات پہنچ پائیں اور کسانوں کو فائدہ ہوا۔ غریب اور متوسط طبقات کے علاوہ کمزور طبقات کو قرض سے محروم کرنے سازش کے تحت خانگیانے کا منصوبہ ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس نے ابتداء سے بینکوںکو خانگیانے کی مخالفت کی ہے ۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس ایم پیز بل کی کامیابی میں رکاوٹ پیدا کریں گے ۔ سابق رکن کونسل پروفیسر ناگیشور راؤ نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کے فیصلوں سے بینکوں میں موجود عوام کی رقم خطرہ میں پڑسکتی ہے ۔ بینک ملازمین کی تنظیموں کے قومی قائد بی ایس رام بابو کے علاوہ تلنگانہ کے قائدین وی ایس بوس ، مہیش کمار ، ہریناتھ اور دوسروں نے خطاب کیا۔ اس موقع پر قرارداد منظور کرکے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے چیف سکریٹریز کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ر