کے سی آر مرکزی تجویز کی مخالفت کرسکتے ہیں ۔ آندھرا پردیش میںوائی ایس آر سی پی کو خطرہ نہیں
حیدرآباد 4 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی و پارلیمنٹ کے یکساں انتخابات برسراقتدار جماعت بھارت راشٹرسمیتی کیلئے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں برسر اقتدار وائی ایس آر کانگریس کو یکساں انتخابات سے کوئی فرق نہیں پڑیگا ۔ تلنگانہ میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ انتخابات میں شرکت نہ کرنا پڑے اسی لئے بی آر ایس نے گذشتہ اسمبلی انتخابات کو پارلیمانی انتخابات سے قبل منعقد کروانے کی حکمت عملی کے تحت 2018کے اواخر میں انتخابات کی راہ ہموار کی تھی ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد 2014 میں پارلیمنٹ و اسمبلی انتخابات یکساں منعقد ہوئے تھے لیکن تلنگانہ میں اقتدار پانے کے بعد چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے 2018 میں قبل از وقت انتخابات کو یقینی بنایا تھا اور انہیں اس کوشش کا فائدہ بھی ملا تھا لیکن اب جبکہ ملک میں ’ایک ملک ایک انتخابات ‘ کی بات ہو رہی ہے اس کی بھارت راشٹرسمیتی کی جانب سے مخالفت کا امکان ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ بی آر ایس یکساں انتخابات کی مخالفت کرے گی جبکہ آندھراپردیش میں وائی ایس آر سی پی کے متعلق کہا جا رہاہے وہ بی جے پی کے منصوبہ کے مطابق یکساں انتخابات کیلئے آمادہ ہے اور اس کا ماننا ہے کہ یکساں انتخابات سے وائی ایس آر سی پی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ آندھراپردیش میں عوام نے 2014 اور 2019 میں یکساں ووٹ ڈال کر اپنے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے انتخاب کو یقینی بنایا تھا اور اس مرتبہ بھی اگر یکساں انتخابات ہوتے ہیں تو وائی ایس آر سی پی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن تلنگانہ میں یکساں انتخابات قومی جماعتوں کو استحکام بخشنے کا موجب بن سکتے ہیں اور ان حالات سے بی آر ایس قیادت بھی پریشان نظر آرہی ہے ۔ عام انتخابات کی لہر کا وہ شکار ہونے کے حق میںنہیں ہے ۔ گذشتہ انتخابات کو عام انتخابات سے قبل منعقد کرکے بی آر ایس نے اقتدار حاصل کیا تھا اور اس مرتبہ معیاد مکمل کرکے وقت پر انتخابات چاہتی ہے لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ’ون نیشن ون الیکشن‘ کے اقدامات نے کئی علاقائی جماعتوں کے قائدین کی نیند اڑا دی ہے اور وہ حکومت کے اگلے قدم کے متعلق پرتجسس ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ یکساں انتخابات ہوتے ہیں تو ملک میں کن مسائل پربات کی جائے گی جبکہ پڑوسی آندھراپردیش میں وائی ایس آر سی پی انتخابات کے انعقاد کیلئے پر سکون ہے اورچیف منسٹر جگن موہن ریڈی کا کہنا ہے کہ ریاست میں کسی قومی سیاسی جماعت کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ایک ملک ایک انتخابات پر عمل سے دوبارہ انکی حکومت واپس آئے گی۔