بیگم پیٹ کے نوجوانوں کیساتھ پولیس کے متعصبانہ رویہ کیخلاف تحقیقات کی ہدایت

   

ڈی سی پی نارتھ زون کو نوٹس، امجداللہ خان خالد کی نمائندگی پر اقلیتی کمیشن کا اقدام

حیدرآباد 26 اگسٹ (سیاست نیوز) بیگم پیٹ پولیس کی جانب سے اولڈ کسٹمز بستی بیگم پیٹ کے نوجوانوں کو مسلسل ہراساں کرنے اور انھیں فرضی مقدمات میں ماخوذ کرنے کے خلاف ریاستی اقلیتی کمیشن سے نمائندگی کی گئی ہے۔ ایم بی ٹی کے ترجمان و سابق کارپوریٹر امجداللہ خان خالد کی قیادت میں متاثرہ نوجوانوں اور ان کے ارکان خاندان کے ایک وفد نے اقلیتی کمیشن کے دفتر پہنچ کر ایک یادداشت حوالہ کی اور پولیس کے متعصبانہ رویہ کے خلاف اقلیتی کمیشن سے نمائندگی کی۔ اقلیتی کمیشن نے فوری حرکت میں آکر ڈپٹی کمشنر پولیس نارتھ زون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے الزامات کے بارے میں تحقیقات کرنے اور اِس سلسلہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ وفد نے یادداشت میں بتایا کہ انسپکٹر بیگم پیٹ ٹی اوما مہیشور راؤ، سب انسپکٹر سدرشن یادو ، پولیس کانسٹبلس پی وشال وینکٹیش اور ٹی ونیل کمار نے مسلم نوجوانوں خواجہ محی الدین، خواجہ رؤف الدین، خواجہ ایوب الدین اور محمد شفیع الدین پر فرضی مقدمات درج کئے اور انھیں شخصی طور پر نشانہ بناتے ہوئے مسلسل ہراساں کررہے ہیں اتنا ہی نہیں دھمکیاں دیتے ہوئے جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کرنے کا انتباہ بھی دیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان نوجوانوں کو حراست میں لے کر شدید زدوکوب کیا گیا اور آر ڈی او عدالت میں پیش کرتے ہوئے انھیں روڈی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ مسلم نوجوانوں کے خلاف 4 مقدمات درج کئے گئے ہیں اور اُنھیں روزانہ پولیس اسٹیشن طلب کرتے ہوئے اُنھیں حاضری دینے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ پولیس کے اِس جانبدارانہ رویہ سے مسلم نوجوانوں کے ارکان خاندان میں خوف و دہشت کا ماحول ہے کیوں کہ آئے دن پولیس کانسٹبلس اُن کے مکان پہونچ رہے ہیں اور اُنھیں پولیس اسٹیشن منتقل کیا جارہا ہے۔ امجداللہ خان خالد کا کہنا ہے کہ مذکورہ پولیس عہدیداروں کا ان نوجوانوں کے خلاف مجرمین جیسا سلوک ہے اور 17 رمضان المبارک سے اُنھیں نشانہ بنایا جارہا ہے اور اُنھوں نے سابق میں رمضان میں سحر کے وقت مذکورہ نوجوانوں کو سب انسپکٹر سدرشن کی جانب سے گاڑی کی تلاشی کے بہانے روکا اور اُنھیں گالی گلوج کی تھی جس کے نتیجہ میں نوجوانوں نے پولیس کمشنر اور دیگر عہدیداروں کو بذریعہ ای میل شکایت درج کروائی تھی۔ نمائندگی کے دوران مسلم نوجوانوں نے الزام عائد کیاکہ سب انسپکٹر سدرشن یادو نے اپنے ایک رشتہ دار گولا کیٹو جو ماریڈپلی کا روڈی شیٹر ہے کا حوالہ دیتے ہوئے اُنھیں دھمکایا ۔ اقلیتی کمیشن نے نمائندگی پر فی الفور کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پولیس نارتھ زون کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس سب انسپکٹر اور دیگر کانسٹبلس کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا اور قصوروار پائے جانے پر اُن کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے کہا۔ کمیشن نے ڈی سی پی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔