تائیوان کے گرد چینی میزائل بردار طیاروں کی پروازیں

   

اسپیکر امریکی ایوان نمائندگان نینسی پیلوسی پر چین کی پابندیاں
تائی پے : امریکی اسپیکر ایوان نمائندگان نینسی پیلوسی کے دورے کے بعد چین کی جانب سے تائیوان کے گرد شروع ہونے والی جنگی مشقوں کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری ہے۔تائیوان کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ متعدد چینی بحری جہازوں اور طیاروں نے مسلسل دوسرے دن آبنائے تائیوان میں تائیوان اور چینی سرزمین کو تقسیم کرنے والی غیر رسمی لکیر’میڈیئن لائن‘ عبور کی ہے۔ تاہم چین کے سرکاری میڈیا پر ان مشقوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ادھر چین نے سپیکر پیلوسی اور ان کے اہلخانہ پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔چین کے وزیرِ خارجہ وینگ یی نے کہا ہے کہ نینسی پیلوسی نے چین کے داخلی امور میں سنگین مداخلت کی ہے اور چین کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ نینسی پیلوسی نے ’ون چائنا‘ کے اصول کو بھی پامال کیا ہے اور آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔بیان کے مطابق نینسی پیلوسی کے ان اشتعال انگیز اقدامات کی وجہ سے ’چین نے پیلوسی اور ان کے اہلخانہ پر چین کے مروجہ قوانین کے تحت پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘اس سے قبل نینسی پیلوسی نے کہا تھا کہ چین امریکی سیاستدانوں کو تائیوان جانے سے روک کر اسے ’تنہا نہیں کر سکتا۔‘ جبکہ تائیوان کے وزیرِ خارجہ جوزف وو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک وہ آخری حصہ نہیں بنے گا جو چین کا توسیع پسندی کا خواب پورا کرے۔تائیوانی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد چینی بحری جہازوں اور طیاروں نے جمعے کو ایک مرتبہ پھر میڈیئن لائن عبور کی۔ جمعے کو چین کے جزیرہ پنگٹین کے اوپر چینی جنگی جہازوں کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا جو میزائلوں سے لیس تھے۔پنگٹین چینی سرزمین کا وہ جزیرہ ہے جو تائیوان کے قریب ترین ہے۔ جمعرات کو چین نے یہیں سے تائیوان کے گرد چھ بیلسٹک میزائل لانچ کیے تھے اور جمعرات کو ہی یہاں جنگی ہیلی کاپٹرز کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ چین نے بیجنگ میں موجود جی سیون ممالک اور یورپی یونین کے سفیروں کو طلب کر کے تائیوان کے گرد جاری اپنی جنگی مشقوں کے خلاف بیانات پر احتجاج کیا ہے۔