واشنگٹن ۔ 26 جون (ایجنسیز) ٹرمپ انتظامیہ نے میری لینڈ کے وفاقی ججز کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان ججز کا ایک حکم عدالت میں سماعت کی درخواست کرنے والے کسی بھی زیرِ حراست تارکِ وطن کو فوری طور پر ہٹانے سے روکتا ہے اور مقدمہ اسی بنا پر دائر کیا گیا ہے۔میری لینڈ میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے چیف جج اور عدالت کے دیگر ججز کے خلاف منگل کو دائر کردہ غیر معمولی مقدمہ یہ بات واضح کرتا ہے کہ امیگریشن کے نفاذ پر انتظامیہ کی کس قدر توجہ ہے اور اس سے عدلیہ کے ساتھ انتظامیہ کا تنازعہ شدت اختیار کرتا نظر آتا ہے۔چیف جج جارج ایل رسل تھری کے دستخط سے مئی میں دائر کردہ ایک حکم اس مسئلے کی بنیاد ہے جو انتظامیہ کو ایسے کسی بھی تارکینِ وطن کو فوری طور پر امریکہ سے نکالنے سے روکتا ہے جو میری لینڈ ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپنی حراست پر نظرِ ثانی کے لیے کاغذی کارروائی کرتے ہیں۔ یہ حکم ہیبیس کارپس کی درخواست دائر ہونے کے بعد درخواست دہندہ کو دوسرے کاروباری دن کی شام چار بجے تک ملک بدری سے روکتا ہے۔اپنے مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک سے نکالنے پر اس طرح کا خودکار توقف سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور صدر کی طرف سے امیگریشن قوانین کے نفاذ کے اختیار میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح یہ ایگزیکٹو برانچ کے بنیادی اختیارات میں دخل اندازی کرتا ہے۔