تاریخ بدلنے کی باتیں

   

Ferty9 Clinic

وحشت ہے دشت میں جاؤ ، شہر میں کیا ہے
سارے شہر کو تم مسمار نہیں کرسکتے
حکومتیں جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتی ہیں وہ عوام کے مسائل کو حل کرنے اور انہیں ممکنہ حد تک راحت فراہم کرنے ‘ ملک کی ترقی کو یقینی بنانے اور ان ثمرات میں عوام کی حصہ داری کو یقینی بنانے کی کوششیں کرتی ہیں۔ ملک کا نام روشن کیا جاتا ہے ۔ ملک کی تاریخ کا تحفظ کیا جاتا ہے ۔ ملک کے تاریخی اور تہذیبی ورثہ سے ساری دنیا کوواقف کروانے کی جدوجہد کرتی ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت نریندر مودی حکومت ملک کی تاریخ کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے اور من مانی اور من گھڑت باتوں کو تاریخ کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مودی حکومت کی پہلی معیاد میں یونیورسٹیز کو نشانہ بنایا گیا ۔ تاریخ کی کتابوں میں تبدیلی کرنے کی بات کی گئی ۔ نصابی کتب کو تبدیل کردیا گیا ۔ پراگندہ ذہنیت کے مالک افراد کو نصابی کتب کی تیاری کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کو ایک مخصوص نظریہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی ۔ اب جبکہ مودی حکومت کی دوسری معیاد چل رہی ہے اور وہ بھی دوسرے نصف میں پہونچ چکی ہے تو بی جے پی حکومت ترقی اور ملک کی بہتری کی باتیں کرنے ‘ عوام کو روزگار فراہم کرنے کی جدوجہد کرنے ‘ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے ‘ عالمی سطح پر ملک کی طاقت کو منوانے ‘ ملک کی تاریخی اور تہذیبی ورثہ کا تحفظ کرنے کی بجائے ایک بار پھر سے تاریخ کو بدلنے کی بات کر رہی ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ کو ایک مخصوص گوشے تک محدود کردیا گیا ہے اور اب نئی تاریخ رقم کی جائے گی ۔یہ در اصل ایک مخصوص نظریہ کو سارے ملک پر مسلط کرنے کی کوشش ہے جس کی مخالفت کی جانی چاہئے ۔ ہندوستان کا جو تاریخی اور تہذیبی ورثہ ہے وہ ہزاروں سال پر محیط ہے ۔ ہر دور میں ملک نے ایک شاندار تاریخ رقم کی ہے اور ساری دنیا میں ملک کا نام روشن کیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے گوشے گوشے میں جو تعمیرات ہیں ان کی وجہ سے بھی ملک کی تاریخ ساری دنیا میں جانی پہچانی جاتی ہے ۔اب حکومت اسی تاریخ کو بدلنے کی بات کر رہی ہے جو ناقابل فہم ہے ۔
یہ حقیقت سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے ہم خیال ادارے اور افراد ملک میں مسلم حکمرانوں کے رول کو قبول کرنے تیار نہیںہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ مسلم اور خاص طور پر مغل حکمرانوں نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنایا تھا ۔ آج ہندوستان کے کونے کونے میں مغلیہ دور کی تعمیرات موجود ہیں جو آج بھی ملک کی شان و وقار کو چار چاند لگانے کا کام کر رہی ہیں۔ چاہے آگرہ کا تاج محل ہو یا پھر دہلی کا لال قلعہ ہو ‘ہمایوں کا مقبرہ ہو یا پھر آگرہ کے شاہی محلات ہوں ‘ دہلی کا لال قلعہ ہو یاپھر ملک کے کئی شہروں میں موجود مختلف تعمیرات ہوں سبھی نے ہندوستان کی شان و شوکت میں اضافہ کیا ہے اور کئی صدیاں گذرجانے کے باوجود آج بھی یہ اپنے طرز تعمیر کی وجہ سے ساری دنیا میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں ۔ ہندوستان کی جو روایات رہی ہیں ان میں ان تعمیرات ہی کا نہیں بلکہ ہر دور میں ہندوستان کانام روشن رہا ہے ۔ اس کے باوجود محض تنگ نظری اور تعصب کی وجہ سے اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ اس سے حکومت کی کوتاہ ذہنیت کا ثبوت ملتا ہے ۔ آج مختلف گوشوں کی جانب سے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور غلط تاثر کو تاریخ کا حصہ بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں جس سے دنیا بھر میں ہندوستان کانام متاثر ہوگا ۔ ایسی کوششوںسے حکومت کو باز رہنے کی ضرورت ہے ۔ تنگ نظری اور تعصب سے ملک کا نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔
جہاں تک تاریخ کی بات ہے توسارا ملک جانتا ہے کہ ملک کی تاریخ میں کس کا رول کتنا اہم رہا ہے ۔ کس نے ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنایا ہے ۔ساری دنیا میں ہندوستان کی روایات کی مثال کس نے قائم کی ہے ۔ کس نے ملک کی جدوجہد آزادی کا آغاز کیا تھا اور کیا کچھ قربانیاں دی تھیں۔ کن قائدین نے ملک کی آزادی کیلئے تا دم آخر جدوجہد کی اور انگریزوں کو ناکوںچنے چبوا دئے تھے ۔ اس کے باوجود محض ذہنی تحفظات کی وجہ سے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں نہیں ہونی چاہئے ۔ تاریخ کو بدلنے کی بجائے ملک کی شاندار تاریخ اور تہذیبی ورثہ کے تحفظ کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔