مسٹر پی چدمبرم
سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس
وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح نہیں ہے چاہے وہ ماضی کی ہوں یا حالیہ عرصہ کے دوران منظرعام پر آئی ہوں ، وہ ہر لحاظ سے ان سے مختلف ہے ۔ اس کامقصد اکثر و بیشتر اور ممکنہ حد تک صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اقتدار پر فائز رہنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بی جے پی چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طرح ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے جاپانی حملہ آوروں کے خلاف ظالمانہ جنگ کے ذریعہ اور 1945 ء میں جاپانی فورسس کی خودسپردگی کے بعد اقتدار پر فائز ہوئی ۔ اس طرح حملہ آور جاپانیوں کے خلاف جنگ کے ذریعہ وہ اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب رہی ۔ اسی طرح اس کے اقتدار تک پہنچانے میں 1949 کے دوران کومن ٹانگ (KMT) کے خلاف تلخ و تند خانہ جنگی نے بھی اہم کردار ادا کیا اور پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ 1949 ء میں مان زیڈ انگ نے چین میں ایک پارٹی اسٹیٹ کا اعلان کیا تب سے ہی چینی کمیونسٹ پارٹی اقتدار میں ہے ۔
دوسری جانب ہندوستان نے 15 اگسٹ 1947 ء میں برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی اور پھر اپنے لئے ایک سیکولر، جمہوری اور جمہوری دستور رقم کیا اور دستور ہند کو 1950ء میں اپنایا گیا جس کے تحت انتخابات میں کئی ایک سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت دی گئی ، ساتھ ہی وقفہ وقفہ سے انتخابات کے انعقاد اور اقتدار کی پرامن منتقلی کی اجازت دی گئی اور پھر اسے یقینی بھی بنایا گیا ۔ اقتدار کو یونین ( مرکزی ) کی سطح اور ریاست کی سطح پر پرامن و پرسکون انداز میں منتقل کیا گیا ۔ یہی ہندوستان اور چین کے درمیان پائے جانے والا سب سے اہم اور بڑا فرق ہے ۔
بی جے پی اور آر ایس ایس : اپنے قیام سے ہی جن سنگھ اور بعد میں بھارتیہ جن سنگھ اور اب اپنی موجودہ شکل میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) دستور ہند میں یقین رکھتی ہے ، اسے ایک جمہوری پارٹی کے طورپر آگے بڑھایا اور ملک کی سیاست میں اپنا مقام و موقف بنایا ۔ اُس نے خود کو ہندوستان کی سب سے قدیم سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس سے بالکل منفرد اور الگ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ سیاسی میدان میں بائیں بازو کی نمائندگی کرنے والی بی جے پی نے شیاما پرساد مکرجی ، دین دیال اُپادھیائے، اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی کی قیادت میں ایک جمہوری پارٹی کے طورپر کام کیا لیکن بی جے پی کے نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کا ہندوستان کے سیاسی نظام سے متعلق ایک مختلف نظریہ رہا ہے اور اب بھی ہے۔ آر ایس ایس کا یہ ماننا ہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہونا چاہئے جس کی ایک زبان ، ایک تہذیب و ثقافت ، ایک سیاسی جماعت اور جہاں تک ممکن ہوسکے ایک مذہب ہونا چاہئے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں بے شمار مذاہب کے ماننے والے ، بے شمار زبانوں اور بولیوں کے بولنے والے اور کئی ایک تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والے بستے ہیں ۔
بہرحال مسٹر نریندر مودی جو وزیراعظم بھی ہیں بی جے پی کے ایک عملی لیڈر ہیں اور فی الوقت بی جے پی کی ساری سیاست اُن کے اطراف و اکناف ہی گھوم رہی ہے ۔ وہ ایک نظریاتی شخصیت ہیں ، ایسی شخصیت جو آر ایس ایس کے نظریات سے نہ صرف اتفاق کرتے ہیں بلکہ اسے قبول کرتے ہیں لیکن وہ عملی طورپر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آر ایس ایس کے مقاصد صرف انتخابی کامیابی سے نہیں بلکہ مرحلہ وار اور بہت ہی سوچ سمجھ کر اُٹھائے گئے اقدامات سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طورپر 2014 ء کے بعد مودی کی زیرقیادت حکومت کی دستورسازی یا قانون سازی و انتظامی اقدامات کو اُسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے ۔
توقعات اور مایوسی : مسٹر نریندر مودی سال 2014ء تا 2024 ء نقطۂ عروج پر رہے ۔ 2024 ء کے عام انتخابات میں اُنھیں پورا یقین تھا کہ ہندوستانی عوام اُن کی پارٹی بی جے پی کو 400 سے زائد نشستوں پر کامیاب کروائیں گے چنانچہ خود مسٹر مودی اور اُن کے حامیوں نے اب کی بار 400 پار کا نعرہ لگایا لیکن جب نتائج منظرعام پر آئے تب مسٹر مودی اور بی جے پی کو ایک زبردست جھٹکہ لگا ۔ عوام نے انھیں اور بی جے پی کو صرف 240 نشستوں پر کامیاب کیا اس طرح وہ 543 رکنی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنے سے بھی قاصر رہے ۔ 2024 ء کے بعد سے اُن کی تمام کوششیں کھوئی ہوئی طاقت کو 2029 ء کے عام انتخابات سے قبل واپس حاصل کرنے کیلئے ہیں۔
فرض کریں کہ بی جے پی دستور کی (131 ویں ترمیم ) بل 2026 ء کو پارلیمنٹ میں منظور کروانے میں کامیاب ہوجاتی ، یہ ترمیم خواتین کے لئے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی نشستیں محفوظ رکھنے کے نام پر نئی حلقہ بندی اور سیاسی حد بندی کی اجازت دیتا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو نئے قوانین جنوبی ہند کی ریاستوں کو ملک کی سیاست اور حکمرانی میں غیرموثر بناتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی پارلیمنٹ کو دباؤ میں لاکر دوسری دستوری ترامیم بھی منظور کرواتی جن میں ون نیشن ون الیکشن بل بھی شامل ہے ۔
ون نیشن ون الیکشن بل کو شکست دینا ضروری : مجھے اس بات کاخوف ہے کہ اگر ون نیشن ون الیکشن ( ایک ملک ایک انتخاب ) بل منظور ہوتا ہے تو یہ اپوزیشن بلاک کا شیرازہ بکھرسکتا ہے ۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ علاقائی سطح اور ایک ریاست تک محدود سیاسی جماعتوں نے کانگریس سے ملکر اپوزیشن بلاک بنایا ہے ، ان جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی پائے جاتے ہیں جبکہ اپوزیشن بلاک میں شامل جماعتیں ریاستی اسمبلی اور مقامی اداروں کے انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ بھی کرتے ہیں لیکن بیک وقت ان میں اس بات کی بھی صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات میں اتحاد بنائیں جیسا کہ ان اپوزیشن جماعتوں نے 2024 ء کے عام انتخابات میں کیا جس سے یقینا بی جے پی کو بہت نقصان ہوا ۔ اب کی بار 400 پار کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی 240 تک ہی محدود ہوگئی ۔ اب آتے ہیں اس سوال پر کہ اگر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں اور بعد میں مقامی اداروں کے الیکشن کا ایک ساتھ انعقاد عمل میں لایاجائے تو علاقائی جماعتوں کیلئے ملکر مضبوط اتحاد بنانا انتہائی مشکل ہوجائے گا ۔ حاانکہ یہی اتحاد اپوزشن جماعتوں کو لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کا سنہری موقع فراہم کرسکتا ہے۔ ONOE اس مقصد کو ختم کردے گا، ایسے میںبی جے پی اس بل کی منظوری کو اپنے بڑے منصوبے کی تکمیل سمجھتی ہے ۔ بہرحال علاقائی اور چھوٹی جماعتوں کو 2024 ء کے عام انتخابات سے سبق لینا چاہئے ۔ کئی اپوزیشن جماعتوں نے INDIA بلاک بنایالیکن وہ بی جے پی کو شکست نہ دے سکی ۔ بی جے پی 240 نشستیں حاصل کرتے ہوئے سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ۔ اگر INDIA بلاک اس میں شامل جماعتوں کے ساتھ لو اور دو کی لچکدار پالیسی اپناتا ہے تو وہ اپنی کامیابی کو وسعت دے سکتے ہیں۔