تاریخی مکہ مسجد میں غیر معیاری کام، مسجد کے استحکام کو خطرہ

   

پلاسٹر جھڑنے کی شکایت، آرکیالوجیکل سروے کی من مانی، ماہرین کی نگرانی ضروری،قیمتی کھڑکیوں کا کوئی پرسان حال نہیں
حیدرآباد۔13۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد کی مرمت اور تزئین نو کے کاموں کے سلسلہ میں حکومت بھلے ہی لاکھ دعوے کرلے لیکن آرکیالوجیکل سروے عہدیداروں کی لاپرواہی کے نتیجہ میں مسجد کے کام انتہائی ناقص اور سست رفتاری کا شکار ہیں۔ حکومت نے تعمیری کاموں کیلئے 18 ماہ کا وقت دیا تھا لیکن چار سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن آج تک کام ابھی تک ابتدائی مرحلہ میں ہے۔ عہدیداروں کی لاپرواہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اندرونی حصہ میں پلاسٹر کا کام صرف تین ماہ میں خراب ہوگیا اور پلاسٹر کے ٹکڑے جھڑ کر گرنے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں گنبدوں میں پلاسٹر کا کام دوبارہ کرنا پڑے گا۔ 400 برسوں میں مسجد کے استحکام کا یہ حال تھا کہ کبھی بھی پلاسٹر خراب نہیں ہوا لیکن صرف چند ماہ میں دیواروں سے پلاسٹر جھڑنے لگا ہے۔ مسجد کے قدیم مصلیوں کا کہنا ہے کہ مرمتی کاموں سے مسجد کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے مزید کمزور کردیا گیا۔ حکومت کو ماہرین کے ذریعہ کاموں کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ اس تاریخی مسجد کا تحفظ ہوسکے۔ 2017 ء میں تعمیری اور مرمتی کاموں کا آغاز ہوا تھا جس کے لئے حکومت نے 8 کروڑ روپئے مختص کئے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ممبئی کی دو کمپنیوں کو ابتداء میں کام الاٹ کیا تھا لیکن ایک کمپنی درمیان سے ہی کام چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ کاموں کی عدم نگرانی کے سبب آرکیالوجیکل سروے کے عہدیدار من مانی پر اتر آئے ہیں۔ مقبرہ کی مرمت کا کام مکمل ہوچکا ہے اور اب اندرونی حصہ میں کام جاری ہے ۔ 16 گنبدوں میں 12 کا کام مکمل ہوگیا لیکن ان میں بیشتر گنبدوں سے پلاسٹر جھڑنا شروع ہوچکا ہے ، لہذا پلاسٹر کا کام دوبارہ کرنا پڑے گا ۔ تین گنبدوں میں مرمتی کام ابھی جاری ہے۔ اوپری حصہ میں 196 چھوٹی کھڑکیاں ہیں جنہیں کسی ماہر کار پینٹر کے ذریعہ دوبارہ ایستادہ کرنا ہوگا ورنہ یہ قدیم کھڑکیاں خراب ہوسکتی ہیں۔ پلاسٹر کے کام کے دوران ہی کار پینٹر اور الیکٹریکل کام کیا جائے تو دوبارہ دیواروں کو کھودنے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن کنٹراکٹر نے کئی اہم کام ابھی تک شروع نہیں کئے ہیں جس کے نتیجہ میں کام کی تکمیل کے بعد دیواروں کو نقصان کا اندیشہ ہے ۔ الیکٹریکل اور کارپینٹر کاموں کے علاوہ پبلک ایڈریس سسٹم کیبل ورک اور دیگر کام جن میں فرش کا کام باقی ہے۔ حکومت رمضان المبارک تک کاموں کی تکمیل کا گزشتہ دو برسوں سے اعلان کر رہی ہے لیکن کام کی رفتار اور معیار کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ رمضان تک مسجد کی تزئین نو مکمل ہوجائے۔ مسجد کے قدیم مصلیوں کو موجودہ صورتحال پر کافی دکھ ہے لیکن ان کی سماعت کرنے والا کوئی نہیں۔ مسجد میں جائے نمازوں کا کوئی انتظام نہیں ہے اور اس سلسلہ میں حکومت کو بارہا توجہ دلائی گئی۔ ر