تاریخی چارمینار پر راہول گاندھی کا پرتپاک استقبال ۔ قومی پرچم لہرایا گیا

,

   

کانگریس قائد کی ایک جھلک دیکھنے نوجوانوں کا ہجوم امڈ پڑا ۔ سکیوریٹی عملہ کو مشکلات ۔ بہادر پورہ چوراہے پر کسانوں اور طلبا تنظیموں کے قائدین سے ملاقات ۔ مسائل سے آگہی

حیدرآباد۔یکم۔نومبر۔(سیاست نیوز) تاریخی چارمینار کے دامن میں مقامی عوام اور تاجرین نے راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور بہادر پورہ سے حسینی علم کے درمیان راہول گاندھی کے خیر مقدم کیلئے جگہ جگہ شہ نشین نصب تھے اور کئی مقامات پر سامع نوازی ‘ مرفع اور بتکماں سے استقبال کیا گیا ۔چارمینار کے دامن میں راہول گاندھی نے سدبھاؤنا مرکز پر پرچم کشائی کی اور قومی ترانہ پڑھا گیا۔ شمس آباد سے پرانے شہر میں راہول گاندھی کی یاترا کے داخلہ کے انتظامات کو بہتر بنانے اور ٹریفک میں کسی قسم کا خلل نہ ہواس کیلئے وسیع انتظامات کئے گئے تھے۔ بھارت جوڑو یاترا میں آج آنجہانی روہت ویمولہ کی ماں نے شرکت کرکے راہول گاندھی سے ملاقات کی اور ان کی یاترا کی کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک سے نفرت کے خاتمہ اور ملک کے عوام کو جوڑنے اس کوشش کا ہر اس فرد کو حصہ بننا چاہئے جو ملک کی ترقی اور نفرت کے خاتمہ کیلئے کوشاں ہے۔ راہول گاندھی نے آج یاترا کے وقفہ کے دوران خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان کے علاوہ طلبہ تنظیموں کے قائدین اور سماج کے ایسے طبقات جنہیں عام طور پر معاشرہ کا حصہ تصور نہیں کیا جاتا ان کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سے آگہی حاصل کی۔بتایاجاتا ہے کہ بہادرپورہ پر توقف کے دوران راہول گاندھی نے تلنگانہ میں خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان سے ملاقات کی ۔ انکے مسائل سے آگہی حاصل کی اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران ریاست میں تعلیمی سہولتوں اور حکومت کے اقدامات کے متعلق تفصیلات حاصل کی۔ پرانا پل سے راہول گاندھی نے یاتراکا دوبارہ آغاز کیا جو کہ موسیٰ باؤلی‘ حسینی علم‘ محبوب چوک‘ لاڈ بازار سے ہوتے ہوئے چارمینار پہنچی۔چارمینار کے دامن میں سماج کے مختلف طبقات کی جانب سے راہول گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا خیر مقدم کیا گیا اور انہوں نے چارمینار کے دامن میں پرچم کشائی انجام دی۔ راہول گاندھی کے چارمینار پہنچنے سے کئی گھنٹوں قبل پولیس کی جانب سے شاہ علی بنڈہ ‘ علی آباد سے چارمینار جانے والی سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھی اور ٹریفک کا رخ موڑدیا گیا تھا اس کے باوجود بڑی تعداد میں عوام نے چارمینار کے دامن میں بھارت جوڑو یاترا میں شرکت کی۔ چارمینار پر پرچم کشائی اور قومی ترانہ کے بعد راہول کی یاترا دوبارہ شروع کردی گئی جو گلزار حوض ‘ پتھر گٹی‘ مدینہ بلڈنگ ‘ نیاپل ‘ افضل گنج سے گذر کر معظم جاہی مارکٹ پہنچی اور گاندھی بھون سے ہو کر نکلس روڈ پہنچی ۔راہول گاندھی کی یاترا کے حیدرآباد میں داخلہ پر شہر کے بیشتر علاقوں بالخصوص پرانے شہر کے علاقوں میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ صبح کی اولین ساعتوں میں شمس آباد سے شروع ہوئی اور آرام گھر چوراہا ‘ شیورام پلی سے ہوتے ہوئے بہادر پورہ پہنچی ۔بہادر پورہ پہنچنے کے بعد یاترا کو موقف کیا گیا جہاں راہول گاندھی اور ان کے ہمراہ چل رہے 300 سے زائد یاتری جو کنیا کماری سے روانہ ہوئے ہیں اور کشمیر تک ان کے ساتھ رہیں گے وہ بھی موجود تھے جن سے عوام نے ملاقات کرتے ہوئے ان کے ساتھ تصویر کشی کی ۔ یاترا میں جو لوگ ساتھ ہیں ان میں سینیئر کانگریس قائد جئے رام رمیش ‘ مسٹر یوگیندر یادو ‘ مسٹر کنہیا کمار کے علاوہ دیگر قائدین شامل ہیں۔ راہول گاندھی کی یاترا میں توقف کے دوران نومنتخبہ صدر کانگریس مسٹر ملکارجن کھرگے حیدرآباد پہنچے اور انہوں نے بھی راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں حصہ لیا۔چارمینار کے دامن میں راہول گاندھی کی یاترا پہنچنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وہ یہاں سے عوام کو خطاب کریں گے لیکن پرچم کشائی کے فوری بعد وہاں سے روانہ ہوجانے سے مقامی عوام کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ منتظمین کے مطابق وقت کی تنگی اور نکلس روڈ پر منعقد ہونے والے جلسہ عام کے پیش نظر راہول گاندھی نے چارمینار پر خطاب کرنے سے گریز کیا ۔ چارمینار پر راہول گاندھی کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوان امڈ پڑے تھے ۔ م