حیڈرا کی کارروائیوں کا دفاع، سب انسپکٹرس اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔11۔ستمبر۔(سیاست نیوز) حکومت تالابوں پر موجود قبضہ جات کی برخواستگی کے معاملہ میں کوئی مفاہمت نہیں کرے گی اور نہ ہی ’حیڈرا‘ کے ذریعہ جاری مہم پر کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا بلکہ حکومت حیدرآباد میں موجود تالابوں اور کنٹوں کے احیاء کے سلسلہ میں سنجیدہ اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے شہر کو سیلاب سے پاک بنائے گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سب انسپکٹرس اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ں نے شہر حیدرآباد میں جاری ’حیڈرا‘ کی کاروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں موجود تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے شعبہ کی کارکردگی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی اور نہ ہی ان قبضہ جات کو برداشت کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت حیدرآباد کو سیلاب سے پاک بنانے کے لئے بفر زون اور ایف ٹی ایل میں کئے گئے قبضہ جات کو برخواست کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں تالابوں پر کئے گئے قبضہ خواہ کسی کے بھی ہوں انہیں برخواست کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت تمام غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرے گی ۔ انہوں نے فارم ہاؤزس کو منہدم کئے جانے کے معاملہ میں جاری شکایات کے سلسلہ میں کہا کہ اگر کوئی فارم ہاؤز بناتا ہے تو اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر ان فارم ہاؤز کے ذریعہ خارج ہونے والے فضلہ کو صاف پینے کے پانی کے ذخائر آب میں چھوڑا جاتا ہے تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہو ںنے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران سلامی لینے کے بعد اپنے خطاب میں ’حیڈرا‘ کی کاروائیوں کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے بلڈرس جو شہر حیدرآبا د میں تالابوں پر قبضہ کے ذمہ دار ہیں ان میں خوف کی لہر پیدا ہوچکی ہے ۔ انہوں نے تالابوں ‘ کنٹوں ‘ ایف ٹی ایل ‘ بفر زون میں موجود قابضین کو مشورہ دیا کہ وہ رضاکارانہ طو رپر اپنے قبضوں کو برخواست کردیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت ایف ٹی ایل اور بفر زون یا تالابوں میں موجود قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس منصوبہ کے تحت موسیٰ ندی کے طاس میں موجود قبضہ جات کو برخواست کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے طاس میں مقیم 11 ہزار سے زائد مکینوں کی بازآبادکاری کے لئے انہیں ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی اور موسیٰ ندی کے اندر موجود تمام قبضہ جات کو برخواست کیا جائے گا۔ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ نالوں پر کی گئی تعمیرات کو بھی برخواست کیا جائے گا اور نالوں پر کی جانے والی تعمیرات کے سلسلہ موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں بغیر کسی نوٹس کے منہدم کیا جائے گا۔چیف منسٹر تلنگانہ نے پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت منشیات سے پاک تلنگانہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کرے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل نوجوانوں کی قربانیوں سے ہوئی ہے اور نوجوانوں نے جو خواب دیکھے تھے انہیں نئی ریاست کی تشکیل کے 10 سالوں میں بھی پورا نہیں کیا گیا لیکن ریاست میں عوامی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی 30ہزار نوجوانو ں کو ملازمتو ںکی فراہمی عمل میں لائی گئی اور تلنگانہ کے عوام بالخصوص نوجوانوں اور کسانوں کے چہروں پر خوشی لانے کے لئے ریاستی حکومت کام کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ ریاست میں ’دوستانہ پولیسنگ ‘ عوام کے لئے ہے نہ کہ مجرموں کے لئے ۔ انہوں نے کہا کہ خاکی میں تلنگانہ کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی جانی چاہئے ۔ چیف منسٹر نے ریاست کے پولیس عہدیداروں کے بچوں کے لئے 50ایکڑ اراضی پر محیط اقامتی اسکول کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر حیدرآباد میں 50ایکڑ پر پولیس عہدیداروں کے بچوں کے لئے اقامتی اسکول کے قیام کے عمل کو اندرون دو سال مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے پولیس کی ملازمت کو جذبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ایسی صورت میں سب سے پہلے پہنچنے والی پولیس ہوتی ہے۔ انہو ںنے منشیات کو آہنی پنجہ سے کچلنے کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تعمیر نو اور تلنگانہ کے نوجوانوں کے مستقبل کو تابناک بنانا اور آئندہ نسلوں کے لئے ریاست کو بہتر بنانے کے اقدامات کی راہ ہموار کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرے گی۔3