ترنمول ۔ ای ڈی ٹکراؤ

   

وقت نازک ہے اپنے بیڑے پر
موج حائل ہے اور ہوا ناساز
کولکتہ میں انتخابی حکمت عملی ساز ادارے آئی ۔ پیاک کے دفتر پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دھاوے اور اس میں چیف منسٹر مغربی بنگال و ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی کی مداخلت نے صورتحال کو سنگین کردیا ہے ۔ ای ڈی اور ترنمول کانگریس نے ایک دوسرے کے خلاف شکایات بھی درج کروائی ہیں اور یہ معاملہ عدالتوں تک پہونچ گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹ لیا ہے اور کہا کہ اس معاملہ کا نوٹ لیا جانا چاہئے ۔ یہ سارا معاملہ سیاسی بالادستی اور برتری حاصل کرنے کا ہے ۔ ویسے بھی یہ تاثر عام ہے کہ جس کسی ریاست میں اسمبلی انتخابات کا وقت ہوتا ہے مرکزی ایجنسیاں وہاں مخالف بی جے پی جماعتوںپر شکنجہ کسنے میں سرگرم ہوجاتی ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ سیاسی مخالفین کو مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوںکے ذریعہ حوفزدہ کرتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے ۔ ان کی انتخابی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوا جاتا ہے اور طاقت و ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل مرکزی ایجنسیاں سرگرم ہوئی ہیں اور مخالف بی جے پی جماعتوں اور ان کے قائدین کو ہراساں کیا گیا ہے ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ کچھ مثالیں توا یسی بھی ہیں جہاں انتخابات سے قبل چیف منسٹروں کو ہی گرفتار کیا گیا تھا ۔ دہلی کے چیف منسٹرا روند کجریوال اور جھارکھنڈ کے چیف منسٹر ہیمنت سورین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ کئی اپوزیشن جماعتیں ایسی ہیں جن کے قائدین کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے ان سے پوچھ تاچھ کی گئی تھی ۔ اپوزیشن کی جانب سے لگاتار یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت تحقیقاتی ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اب مغربی بنگال میں بھی ممتابنرجی اور ترنمول کانگریس قائدین کی جانب سے اسی طرح کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں جبکہ ای ڈی کا الزام ہے کہ ترنمول قائدین کی جانب سے اس کی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کی گئی ہے ۔
ترنمول کانگریس کا دعوی ہے کہ آئی ۔ پیاک کے ساتھ پارٹی کی انتخابی حکمت عملی اور امیدواروں کے تعلق سے کچھ رپورٹس تیار کی گئی تھیں اور ای ڈی کو استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت اس ڈاٹا تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھی تاکہ انتخابات میں ترنمول کو شکست دی جاسکے ۔ گذشتہ تین مرتبہ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ساری طاقت جھونک کر ترنمول کانگریس سے مقابلہ کیا تھا تاہم اسے اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی نہیں مل پائی تھی ۔ تینوں ہی مرتبہ ممتابنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا تھا ۔ بی جے پی چوتھی کوشش کو کامیاب بنانا چاہتی ہے ۔ خاص طور پر گذشتہ برس بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے اتحاد کی زبردست کامیابی کے بعد بی جے پی کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ سمجھتی ہے کہ اس بار وہ بنگال میں بھی کامیاب ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی یہاں انتخابی فائدہ حاصل کرنے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ترنمول کا الزام ہے کہ اسی کوشش کے طور پر ای ڈی کو استعمال کیا جا رہا ہے اور ترنمول کی حکمت عملی اور اس کی اپنی داخلی رپورٹس اور حکمت عملی اقدامات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سیاسی رسہ کشی نے ریاست کے ماحول کو پراگندہ کردیا ہے ۔ ایک طرف مرکزی ایجنسیوںکا استعمال کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بنگال کے عوام اور ووٹرس کیلئے صورتحال پیچیدہ ہونے لگی ہے ۔
جہاں تک ترنمول ۔ ای ڈی ٹکراؤ کی بات ہے تو دونوں ہی فریقین کو اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہونے پائے ۔ مرکزی ایجنسی کو اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرنے اور بے بنیاد کارروائیاں کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور ساتھ ہی ترنمول کانگریس کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ ایک ذمہ داری سیاسی جماعت ہونے کی حیثیت سے تحقیقات میں ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرے ۔ کسی کو بھی اپنے دائرہ کار سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی اداروں کی ساکھ پر کوئی سمجھوتہ کیا جانا چاہئے ۔ ہر دو کو اپنے عمل سے مثبت مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔