ناٹو سکریٹری جنرل کا بیان ، امریکی کانگریس کی ترکیہ کو F16 کی فراہمی سویڈن کی ناٹو میں شمولیت سے مشروط
اُوسلو؍واشنگٹن: معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (ناٹو) کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے منگل کے روز کہا کہ سویڈن کی رُکنیت کے بارے میں فیصلہ جولائی میں لیتھوینیا کے دارالحکومت ویلنیئس میں ہونے والے اتحاد کے سربراہ اجلاس تک ’قابل رسائی‘ اور ’بالکل ممکن‘ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں منعقدہ حالیہ انتخابات کے بعد ایک ’’کھڑکی‘‘ کھل گئی ہے۔جینز اسٹولٹن برگ نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ (فی الوقت) ہمیں اس بارے میں کوئی یقین نہیںمگر میرا پیغام یہ ہے کہ یہ پہنچ میں ہے۔ ویلنیئس سربراہ اجلاس میں سویڈن کی مکمل رکن کے طور پر شمولیت ممکن ہے۔انھوں نے کہا کہ اب ایک کھڑکی موجود ہے، خاص طور پر ترکیہ میں صدارتی انتخابات کے بعد اور ترک پارلیمان کی تشکیل کے بعد۔ یقیناً، یہ ممکن ہے، ہم جتنا جلدی ممکن ہو سکے اس کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں۔اسٹولٹن برگ نے زور دے کر کہا کہ وہ انقرہ میں حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔’’میں ترک حکام کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے میں ہوں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سویڈن جلد از جلد تنظیم کا مکمل رکن بن جائے مگر اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن کسی حل تک پہنچنا اور ویلنیئس سربراہ اجلاس کے ذریعے سویڈن کی مکمل رکنیت کا فیصلہ ممکن ہے۔ترکیہ سویڈن کو ناٹو کی رکنیت دینے کا مخالف ہے۔اس نے اس کی تنظیم کیلئے درخواست پر یہ اعتراض کیا تھا کہ ااسٹاک ھوم کرد عسکریت پسندوں یعنی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی حمایت کررہا ہے۔انقرہ پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ترکیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سویڈن درجنوں مشتبہ ’’دہشت گردوں‘‘ خاص طور پر فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کی حوالگی میں ناکام رہا ہے،ان پر انقرہ ترک صدر رجب طیب اُردغان کے خلاف 2016 کی ناکام بغاوت کی کوشش کا الزام لگاتا ہے۔اسٹولٹن برگ نے اعتراف کیا کہ ترکیہ کے ’’سلامتی سے متعلق جائز خدشات ہیں‘‘اور ناٹو کے کسی دوسرے اتحادی کو ترکیہ سے زیادہ دہشت گرد حملوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سویڈن نے گذشتہ سال میڈرڈ میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں طے شدہ معاہدے پر عمل کیا ہے۔اس میں فن لینڈ اور سویڈن کی ناٹو کی رکنیت کیلئے کوششوں کی انقرہ کی جانب سے حمایت کی تصدیق کی گئی تھی کیونکہ دونوں ممالک نے سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے کل منگل کو اعلان کیا کہ کانگریس کے کچھ ارکان ترکیہ کو F-16 لڑاکا طیاروں کی فراہمی کو انقرہ کی جانب سے ناٹو میں سویڈن کے الحاق کی منظوری سے منسلک کرتے ہیں۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ F-16 جنگی طیاروں کے حوالے سے ہماری انتظامیہ بہت واضح ہے کہ اتحاد کے ایک اہم رُکن کے طور پر ترکیہ کیلئے F-16 لڑاکا طیاروں اور ان کی جدید کاری کٹس کا ہونا ضروری ہے۔بلنکن نے ترکیہ اور ہنگری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد اسٹاک ھوم کے الحاق پر رضامند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انتظار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ سویڈن پہلے ہی تیار ہے۔ساتھ امریکی ہی وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ ناٹو کے کسی بھی رکن کو اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ انقرہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔بلنکن نے کہا کہ امریکہ کے نقطہ نظر سے اب ناٹو میں سویڈن کے الحاق کے عمل کو مکمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ترکیہ کی جانب سے جائز خدشات کو دور کرنے کیلئے بہت اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔