ترکیہ میں صدارتی الیکشن، اردغان اور کمال اوگلو کی انتخابی مہم عروج پر

   

انقرہ : ترکیہ میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی دو اہم حریفوں ایردوان اور کمال اوگلو نے کھلے میدانوں میں عوام سے خطابات شروع کردیے ہیں۔ ترکیہ میں صدارتی الیکشن 14 مئی کو ہوں گے۔ دونوں امیدواروں کی انتخابی مہم عروج پر پہنچ گئی اور دونوں نے اپنے حامی عوام کو متحرک کردیا ہے۔”ریپبلکن پیپلز پارٹی” کے سربراہ کمال کلٹسدر اوگلو اور اے کے پارٹی کے سربراہ اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوان نے طاقت اور تشہیر کے طاقتور مظاہرے کیے۔ ان جلسوں میں ہزاروں لوگ امڈ آئے۔استنبول میں کمال اوگلو نے پانچ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کا جلسہ کیا۔ اس مظاہرے میں استنبول کے میئر اکرم امام اوگلو، انقرہ کے میئر منصور یاواش بھی موجود تھے۔ مالٹیپ سکوائر میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ جمع تھے۔حامیوں نے ترکی کے جھنڈے کے ساتھ ساتھ کمال اوگلو کے انتخابی نعرے بھی بلند کیے۔ “میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بہار دوبارہ آنے والی ہے۔” کا نعرہ گونجتا رہا۔دوسری جانب ایردوان نے ہفتے کے روز ملک کے وسط میں واقع قیصری میں بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور اپنے حریف سے کہا کہ وہ ان “ریکارڈ” نمبروں پر غور کریں۔ انہوں نے کلٹسدر اوگلو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ مسٹر کمال ایک لاکھ 35 ہزار افراد یہاں موجود ہیں‘‘۔ انہوں نے حزب اختلاف پر غداری اور امریکہ کی ماتحتی کا الزام بھی لگایا۔ ایردوان نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں خاندان کے تصور کا دفاع کرتی۔ترکیہ میں رائے عامہ کے جائزوں میں عام طور پر امیدواروں کی شہرت میں بہت کم فرق ظاہر ہو رہا ہے۔ سرویز میں یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ ہ 74 سالہ کمال اوگلو ووٹنگ کے دوسرے دور میں ایردوان کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ وہ ایک جامع مہم چلا رہے ہیں۔ اس مہم میں وہ زندگی کی بلند قیمت کے بحران کے حل کا وعدہ کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ترکیہ کے صدر ایردوان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔کمال اوگلو نے روایتی اقتصادی پالیسیوں، پارلیمانی نظام حکومت اور ایک آزاد عدلیہ کی طرف لوٹنے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے مغرب کے ساتھ کسی حد تک ہموار تعلقات کا عہد بھی کیا۔