تریپورہ کے طالب علم کا قتل

   

Ferty9 Clinic

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر
لہو پکارے گا آستیں کا
اترکھنڈ کے شہر دہرہ دون میں تریپورہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان طالب علم کے قتل نے سارے ملک میں ایک بار پھر غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے ۔ خاص طور پر مقتول طالب علم کے آخری الفاظ ’’ میںہندوستانی ہوں ‘‘ نے اس واقعہ کی سمت قوم کی توجہ مبذول کروائی ہے ۔ حالیہ وقتوں میں دیکھا گیا ہے کہ کسی نہ کسی ریاست میں کسی نہ کسی مقام پر کسی نہ کسی دوری ریاست سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور طلباء کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے ۔ یہ علاقائی عصبیت ہوسکتی ہے یا پھر ایک مخصوص سوچ و فکر کو مسلط کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے یا کچھ اور بھی ہوسکتا ہے تاہم اس طرح کیو اقعات ہندوستان کیلئے اچھے نہیں کہے جاسکتے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک نوجوان ہندوستانی طالب علم کو اپنے ہی ملک کے دوسرے نوجوانوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے گڑگڑانے کی نبت آئی کہ وہ بھی ایک ہندوستانی ہے ۔ اس کے باوجود حملہ آوروں نے اس پر کوئی رحم نہیں کیا اور لگاتار اس پر حملہ کرتے رہے اور مار پیٹ کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوگئی ۔ حالانکہ دہرہ دون پولیس کی جانب سے اس واقعہ کو معمول کا ایک واقعہ ہی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے پس پردہ کسی طرح کے محرکات نہ ہونے کا دعوی کیا جا رہا ہے لیکن اس طرح کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آ رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں خاص طور پر شمال مشرق کے طلباء کو ملک کی دوسری ریاستوں میں نشانہ بنانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں میں جموں و کشمیر کے طلباء کو نشانہ بنانے کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ جہاں کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے یا کسی طرح کی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے ملک کی کئی ریاستوں میں جموںو کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء کا عرصہ حیات تنگ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ طلباء کے علاوہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کو جو ملازمت کیا کرتے ہیں یا تجارت پیشہ ہیں انہیں بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس طرح کے واقعات ہندوستان کیلئے مناسب نہیں کہے جاسکتے ۔ ہندوستان ایک ملک ہے اور ہر شہری چاہے وہ کسی بھی ریاست سے تعلق رکھتا ہو وہ ہندوستانی ہے ۔
ملک میں اس طرح کی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہئے جہاں ایک ریاست سے تعلق رکھنے والے کسی شہری یا کسی نوجوان یا کسی طالب علم کو دوسری ریاست سے تعلق رکھنے والے افراد کے سامنے یہ کہہ کر گڑگڑانا پڑے کہ وہ بھی ہندوستانی ہے اور اس کے ساتھ رحم کا معاملہ کیا جائے ۔ ہندوستان کی کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جہاں دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود نہ ہوں ۔ چاہے وہ تعلیم کے سلسلہ میں ہوں ‘ چاہے وہ ملازمت کے سلسلہ میںہوں یا پھر تجارت کے شعبہ میں ہوں ۔ اس کے علاوہ آج کے انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں آئی ٹی کمپنیوں کی ملازمتوں میں بھی بے شمار نوجوان لڑکے و لڑکیاں ایسی ہیں جو کسی اور ریاست سے تعلق رکھتی ہیں اور کسی اور ریاست میں ان کی ملازمت چل رہی ہے ۔ کسی ریاست سے تعلق رکھنے والے طلباء دوسری ریاستوں میں اعلی تعلیم کیلئے جاتے ہیں۔ روزگار کے حصول کیلئے بھی نوجوان نقل مقامی کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر خود ہندوستان میں ہندوستانی طلباء اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اگر دراز ہوتا ہے تو اس کے اثرات منفی ہوسکتے ہیںاور ملک کے نوجوانوں قومی سطح پر تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں حکومتوں کو مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے ۔نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار یا پھر تجارت کے مواقع سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ اس طرح کے واقعات سے نقل مقامی کرنے والے نوجوانوں کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں اور اس کے اثرات قومی سطح پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
کسی بھی ریاست میں کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو ان تمام کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی ریاست میں دوسری ریاستوں کے طلباء ‘ ملازمین اور تاجرین کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور دوسری ریاستوں میں اپنی ریاست کے طلباء و نوجوانوں کی حفاظت کے تعلق سے نمائندگی کریں۔ مرکزی حکومت کو بھی اس معاملے میں سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ نوجوانوں اور طلباء میں اگر اس طرح کی ذہنیت فروغ پاتی ہے تو اس کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور نوجوانوں کو منفی سوچوں سے اوپر اٹھ کر مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی حرکتوں سے گریز کرنا چاہئے ۔