تعلیم‘ رب کو پہچاننے کا اہم ذریعہ

   

کورٹلہ میں اساتذہ کی تہنیتی تقریب سے مولانا مظہر قاسمی کا خطاب
کورٹلہ۔ یکم؍دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ڈی ایس سی 2024ء میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے اقراء ہائی اسکول اُردو میڈیم کورٹلہ کے طلباء و طالبات جنھوں نے سرکاری ملازمت حاصل کرتے ہوئے مدرسہ ہذا کے ساتھ کورٹلہ کا نام روشن کیا ہے۔ ان کے اعزاز میں اقراء ہائی اسکول اُردو میڈیم کورٹلہ کے انتظامیہ کی جانب سے تہنیتی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی سید مظہر قاسمی ڈسٹرکٹ صدر جمعیتہ العلماء جگتیال نے کہا کہ طلباء و طالبات جنھوں نے سرکاری ملازمت کے حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، یقینا قابل مبارکباد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اِسلام تعلیم برائے ملازمت کا قائل نہیں ہے۔ تعلیم انسان کی سوچ کو وسیع کرنے کے لئے ہے، اپنے رب کو پہچاننے کے لئے ہے۔ تعلیم ایسی نہیں ہونی چاہئے کہ انسان اپنے رب کو بھول جائے۔ تعلیم وہ ہے جو انسان کو اپنے رب تک پہنچا دے۔ اساتذہ جن کے دِل میں جوابدہی کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ وہ اپنے پیشہ اور اپنے منصب سے اِنصاف نہیں کرپاتے۔ مولانا نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم ہمارے لئے آئیڈیل ہیں۔ جناب محمد کریم الدین لکچرر وظیفہ یاب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ناظم اقراء ہائی اسکول اُردو میڈیم کورٹلہ جو گزشتہ 30 سال سے اُردو میڈیم اسکول کے ذریعہ اُردو زبان کی خدمات کرتے ہوئے آرہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ جناب محمد عبدالسلیم فاروقی نامہ نگار ’سیاست‘ کورٹلہ نے کہا کہ اقراء ہائی اسکول اُردو میڈیم کورٹلہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات نے نہ صرف عصری تعلیم میں مہارت حاصل کی بلکہ دِینی تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ محمد غیاث الدین جو اس اسکول کے طالب علم رہ چکے ہیں، شعبۂ حفظ سے حافظ شعبہ عالمیت سے عالم، عصری تعلیم سے بی کام، بی ایڈ کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔ جناب محمد عبدالرحیم اسسٹنٹ پروفیسر، جناب محمد عبدالواجد پرنسپل گورنمنٹ جونیئر کالج کورٹلہ وظیفہ یاب نے جلسہ سے خطاب کیا۔ مولوی عابد نے جلسہ کی کارروائی چلائی۔ اس موقع پر خوش نصیب طلباء و طالبات شاداں فاطمہ، درخشاں فاطمہ بنت محمد عبدالرحیم، عبدالباطن، ہدیٰ رفیقی، مہوش مہناز، عبدالعزیز اور نومنتخب اساتذہ کرام شامل ہیںجنھیں شال پوشی اور گلپوشی کرتے ہوئے تہنیت پیش کی گئی۔