تعلیمی سال کا آغاز ‘ سہولتیں ندارد

   

Ferty9 Clinic

اے ذوق طلب درد کی منزل ہے کہیں اور
آسانیاں ہیں سامنے مشکل ہے کہیں اور
سارے ملک کی طرح تلنگانہ میں بھی نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے ۔ کچھ اسکولس اور تعلیمی ادارے چند دن قبل سے کام کرنے شروع کرچکے تھے تو کچھ نے دو دن قبل سے کام کاج شروع کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل کئی طرح کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اسکولس اور دیگر اداروں کی کشادگی کے سلسلہ میں کئی تیاریاں کی گئی تھیں۔ عہدیداروں نے بھی کچھ سرگرمی دکھائی تھی تاہم اس کے نتائج کچھ دیکھنے میں نہیں آ رہے ہیں۔ تعلیمی سال کا آغاز تو ہوچکا ہے اور دو سال بعد یہ پہلا سال ہوگا جو ابتداء سے کام کرے گا ۔ تاہم اس کیلئے حکومت کے اقدامات بالکل ناکافی ہیں بلکہ کچھ معاملات میں تو حکومت نے کوئی توجہ ہی نہیں دی ہے ۔ دو سال سے طلبا کوتعلیمی نقصان ہو رہا ہے ۔ کئی گوشوں کا کہنا ہے کہ دو سال میں کورونا کی دو لہروں کی وجہ سے صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہوگئی تھی اور سب سے زیادہ نقصان طلبا اور تعلیم کا ہوا تھا ۔ امتحانی نتائج پر بھی اس کے اثرات دکھائی دئے ہیں اور سبھی کو اس کا اعتراف بھی ہے ۔ تاہم حکومت ایسا لگتا ہے کہ تعلیم کے شعبہ کیلئے درکار اقدامات میں ناکام ہوچکی ہے ۔ ریاست میں جو نصابی کتب کی ضرورت ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ کئی مضامین اور جماعتوں کی کتب شائع نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی کسی خانگی ادارہ کو ان کتابوں کی اشاعت کا اختیار ہے ۔ ایسے میں طلبا کو اس سال بھی نصابی کتب دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان کی تعلیم پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک خانگی تعلیمی اداروں کا سوال ہے تو وہاں مختلف کتابیں دستیاب ہیں لیکن ا ن کی قیمتوں میں لوٹ مار چل رہی ہے ۔ تعلیمی ادارے طلبا کو تعلیم دینے اور ان کی شخصیت سازی پر توجہ دینے کی بجائے کتابیں فروخت کرتے ہوئے نفع کمانے میں مصروف ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ کہ یہی کتابیں بازاروں میں دستیاب ہیں لیکن تعلیمی ادارے انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اولیائے طلبا پر دباؤ ڈال کر نفع کمایا جارہا ہے ۔ اس تعلیمی اداروں کے خلاف بھی حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی یا اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔
حکومت تلنگانہ کی جانب سے سرکاری اسکولس میں انگریزی میڈیم کی تعلیم کا جاریہ سال سے آغاز کیا گیا ہے ۔ اس فیصلے پر بھی عمل اڈھاک بنیادوں پر کیا جا رہا ہے ۔ اس کیلئے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کیلئے درکار تیاریاں کی گئی ہیں۔ انگریزی میڈیم کا آغاز ریاست کے غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقات کیلئے حکومت کا ایک اچھا قدم ہے اور اس سے طلبا کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ منظم انداز میں اس پر عمل آوری کی جائے ۔ حکومت نے انگریزی میڈیم تعلیم کا آغاز تو کردیا ہے لیکن اس کیلئے بھی کتب ابھی تک دستیاب نہیں کروائی گئی ہیں۔ طلبا کو دو زبانوں میں کتب فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ ابتداء ہی سے کتب کی عدم فراہمی طلبا کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے ۔ سرکاری اسکولس میں اساتذہ کو انگریزی ذریعہ تعلیم کے قابل بنانے برج کورس کا انعقاد بھی عمل میں لایا گیا لیکن یہی کورس طلبا کیلئے شروع کرنے کی ضرورت تھی جو نہیں کیا گیا ۔ انگریزی طرز تعلیم کیلئے جو ماحول کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرکاری اسکولس میں دستیاب نہیں ہے ۔ پہلے تو سرکاری اسکولس میں کسی بھی تعلیم کیلئے ماحول سازگار نہیں ہے لیکن حکومت نے اس جانب بھی توجہ نہیں دی ۔ ریاست کے جو سرکاری اساتذہ ہیں ان کیلئے صرف برج کورس سے بات بننے والی نہیں ہے ۔ اس کیلئے باضابطہ تربیت کی ضرورت تھی لیکن حکومت نے اس کا بھی اہتمام نہیں کیا ۔ اس کیلئے گرمائی تعطیلات سے استفادہ کیا جاسکتا تھا ۔
اب جبکہ تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے تو حکومت کو سب سے پہلے نصابی کتب کی فراہمی پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ چند دنوں یا ہفتوں میں کتب شائع کرتے ہوئے ان کی اجرائی عمل میں لائی جانی چاہئے ۔ دو سال سے تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہوچکے طلبا کو پوری دلچسپی کے ساتھ حصول تعلیم کی سمت راغب کرنے اساتذہ کی قلت کو دور کیا جانا چاہئے ۔ اسکولس میں بنیادی سہولیات کی فراہمی جنگی خطوط پر عمل میں لائی جانی چاہئے ۔ بے شمار اسکولس میں بیت الخلا کی سہولت نہیں ہے ۔ پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ہے اور جماعتوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔