ہمیں اپنا مستقبل خودبناناہوگا، پستی اور بزدلی انسان کی ناکامی کا سبب: مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد، 27 جنوری (پریس نوٹ) ’’ہماری تاریخ تو حضرت آدم علیہ السلام سے ہے۔ ہم نے کئی عروج اور زوال دیکھے ہیں۔ مکہ اور مدینے کی تاریخ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ مسلمانوں نے کبھی اپنے اصولوں سے مصالحت نہیں کی۔ ہمیں پستی، منفی اور لایعنی ماحول سے نکل کر بہتر ماحول کو اختیار کرنا چاہیے۔ ہم اپنے آپ کو غریب، کمزور، مظلوم، کمتر اور بے صلاحیت پیش کریں گے تو دنیا ہماری بربادی کا جشن منائیں گی۔تعلیمی، سماجی، معاشی اور ہنر مندانہ انداز میں طاقتور بنئیے۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم متحد رہنے کے بجائے بکھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے انتشار کا سبب منبر و محراب کے خطیب حضرات بن رہے ہیں۔ کیا اسلامی موضوعات اب صرف امت کو توڑنے اور منتشر کرنے کیلئے ہی باقی رہ گئے ہیں؟ ہمیں تو ان لوگوں سے جڑنا چاہیے جو امت کو جوڑ رہے ہیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عام کے امام و خطیب مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کیا۔ مولانا احسن نے کہا کہ کوئی امت کے اندر ایک فیصد کا اختلاف ظاہر کرکے امت کو بکھیرتا ہے تو اس کو رد کریں۔ امت مسلمہ اور خاص کر ہندوستانی مسلمان نزاع کی حالت میں آئی سی یو میں ہے، کیا ایسی حساس ترین صورتحال میں بھی اختلافات زیب دیتے ہیں؟ اوپن پلیٹ فارم پر امت کو منتشر کرنے والوں کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے امت مسلمہ کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحتیں رکھی ہیں۔ اپنی صلاحتوں کو اجاگر کرنے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب اپنے نفس کی پاکی، ذہن کی یکسوئی، جسمانی طاقت اور اچھی صحبت اختیار کرنا ہے۔ جب انسان کا باطن درست ہوتا ہے تو انسان کے ذہن و فکر کے دریچے بھی کھلتے ہیں اور وہ مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے اوپر ظلم کے فسانے سنانے سے ترقی نہیں ملے گی۔ دنیا کا یہ اصول ہے کہ جو لوگ صرف شکوہ شکایت کرتے ہیں، ان کی کوئی نہیں سنتا۔ ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنا ہے اور ہمیں خود برابر کے شہری بننا ہے۔ اپنے آپ کو خود قابل بنانا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو کمزور مسلمان سے طاقتور مسلمان زیادہ پسند ہے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دینے والا (اونچا) ہاتھ لینے والے (نیچے کے) ہاتھ سے بہتر ہے۔ یہ صرف پیسے دینے والا ہاتھ نہیں بلکہ دنیا کو ٹکنالوجی، تعلیم، ہنر، ترقی دینے والا ہاتھ بھی ہے۔ آج مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ مسلمان لینا تو چاہتا ہے، لیکن دنیا کو کچھ دے نہیں پارہا ہے۔ مسلمان نئی ٹکنالوجیز کا محتاج ہے۔ مسلمان دنیا کی دیگر اقوام کی ایجادات کا مرہون منت ہے۔ مسلمان خود سے کوئی نافعِ انسانیت ٹکنالوجی، اصول اور افکار و نظریات دنیا کو نہیں دے پا رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر غیر مسلم ممالک ترقی کی منزلیں طئے کررہے ہیں۔ ان اقوام کے یہاں ٹکنالوجی، سائنس اور زندگی کی ضروریات سے متعلق نئی نئی ایجادات اور دریافتیں ہورہی ہیں۔ جب کہ کسی بھی مسلم ملک میں ایسا نہیں ہوپا رہا ہے۔ پوری مسلمان قوم کو دنیا سے لینے کی عادت ہوگئی ہے۔ یہودیوں کو ہم برا بھلا بولتے ہیں۔ وہ واقعی بڑے، ظالم، سفاک اور خونخوار ہیں، لیکن ہم مجبور ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے سرچ ایجن پر ان مظالم اور دنیا کی معلومات سرچ کرتے ہیں۔ یہودیوں کے خلاف تحریکیں چلانے کے لیے بھی ہمیں ان کے ہی پلیٹ فارم چلانا پڑرہا ہے۔ اسرائیلی اشیا کا بائیکاٹ کرنے کے بعد بھی اس کے متبادل کے طور پر مارکٹ میں اسرائیلی اور یہودی اشیا ہی دستیاب ہیں۔ انسان کے دانت سے لے کر کپڑے دھونے ادویات تک ہم اسرائیلی پروڈکٹ کے محتاج ہیں۔ مسلمان صرف تبصرے، غیبت، وقت گزاری اور لایعنی کاموں میں مصروف ہیں۔ مسلمانوں کے پاس اپنے آپ سے ایجاد کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ ٹیپو سلطان نے کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ ہمارے نوجوانو ںکی یہ عادت ہوگئی ہے کہ ’مجھے مل گیا تو بس ہے‘۔ اگر جیو تو اوروں کیلئے جیو۔ اللہ نے مسلم امت کو دنیا کی بہترین امت قرار دیا ہے۔ یہ بہترین امت کا اعزاز لوگوں کے فائدہ کی بنیاد پر ہے۔ دیگر اقوام نے اس راز کو پالیا کہ جب تک وہ دنیا کیلئے فائدہ مند ہوگی، اس کی قدر کی جائے گی۔ ان کو امامت و قیادت کے منصب پر فائز کیا جائے گا۔