دونوں سابق اتحادیوں کی دوبارہ متحدہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلہ کی اطلاع
حیدرآباد۔11۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلگو دیشم پارٹی کے بھارتیہ جنتا پارٹی سے اتحاد کو قطعیت کی اطلاعات کے ساتھ ہی تلنگانہ میں بھی تلگو دیشم کو متحرک کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے اور جو تلگو دیشم قائدین تلنگانہ میں پارٹی کے کمزور موقف کے سبب خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے وہ سرگرم ہونے کے متعلق غور کرنے لگے ہیں ۔ پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بی جے پی سے اتحاد کو قطعیت دینے والے چندرابابو نائیڈو کو ریاست تلنگانہ میں بھی بی جے پی سے اتحاد کرنا ہوگا کیونکہ دونوں تلگو ریاستوں میں اتحاد کے ذریعہ وہ جنوبی ہند میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستحکم کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتاپارٹی نے جنوبی ہند بالخصوص دونوں تلگو ریاستوں میں اپنے استحکام کے لئے تلگو دیشم سے اتحاد کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ دونوں ریاستوں میں بی جے پی اور تلگودیشم کا اتحاد جنوبی ہند میں بی جے پی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کا موجب بن سکتا ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی کی دوبارہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے قربت پارٹی سے مسلمانوں کی دوری کا سبب بنے گی لیکن تلگو دیشم قائدین کا کہناہے کہ اقلیتوں یا مسلمانوں سے دوری کے متعلق پارٹی کی جانب سے غور کرنے کی گنجائش باقی نہیں ہے کیونکہ پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور پارٹی کا یہ فیصلہ دونوں ریاستوں میں تلگو دیشم میں نئی جان پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی نے 2014 میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور آندھراپردیش میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی بعد ازاں الکٹرانک ووٹنگ مشین اور دیگر معاملات میں بی جے پی سے دوریوں کے بعد 2019کے انتخابات میں تلگو دیشم کو بری طرح سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اب چندرابابونائیڈو اپنی سیاسی بقاء کے لئے دوبارہ بی جے پی کے ساتھ متحدہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اب بی جے پی کا نشانہ تلنگانہ ہے اور تلنگانہ میں بی جے پی کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لئے تلگو دیشم پارٹی بی جے پی کے لئے مددگار ثابت ہوگی۔م