تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے انعام یافتہ 214 اساتذہ 6 ماہ سے انعامی رقم سے محروم

   

حیدرآباد ۔ یکم مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے عبوری بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 2300 کروڑ مختص کرتے ہوئے مختلف جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کی عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ گزشتہ دنوں ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے علاوہ فیس بازادائیگی ، اسکالرشپ، اوورسیز اسکالرشپ اور شادی مبارک جیسی اسکیمات کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود نے بجٹ جاری کیا۔ حکومت کی تبدیلی کے باوجود تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی کارکردگی میں کوئی سدھار نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے اگرچہ اردو اکیڈیمی کیلئے بھی فنڈس مختص کئے لیکن اردو اکیڈیمی سے بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ گزشتہ 6 ماہ سے انعامی رقم سے محروم ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے گزشتہ سال 6 اگست کو تین سال کے بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈس کے تحت 214 اساتذہ کو انعامی رقم کے طور پر 25000 روپئے کے کاغذی چیکس حوالے کئے تھے۔ اسکول، کالجس اور یونیورسٹیز کے 214 اساتذہ کے اکاؤنٹ میں 6 ماہ گزرنے کے باوجود انعامی رقم جمع نہیں کی گئی۔ اس سلسلہ میں انعام یافتہ اساتذہ نے حج کمیٹی عہدیداروں سے ربط قائم کیا تو انہیں اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ انعام یافتہ اساتذہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر انعامی رقم فوری جاری نہیں ہوئی تو وہ حج کمیٹی کے روبرو احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔ انعامی رقم کی اجرائی کے سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود سے بھی نمائندگی کی گئی ہے۔ اقلیتی اداروںکی کارکردگی کے بارے میں پہلے ہی عوام میں بہتر تاثر نہیں ہے۔ ایسے میں انعام یافتہ اساتذہ کو 6 ماہ سے انعامی رقم سے محروم رکھنا اردو اساتذہ کی توہین ہے۔ 1