تلنگانہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کی عددی طاقت بڑھ کر 104 ہوگئی

,

   

2018 ء میں پارٹی کی 88 حلقوں پر کامیابی، وفاداریوں کی تبدیلیوں اور ضمنی انتخابات سے 16 حلقوں کا فائدہ
حیدرآباد ۔8 ۔ نومبر (سیاست نیوز) علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے والی ٹی آر ایس کی اسمبلی میں دن بہ دن طاقت بڑھتی جارہی ہے ۔ ریاست میں اسمبلی کے جملہ 119 نشستیں ہیں جس میں ٹی آر ایس کی تعداد بڑھ کر 104 ہوگئی ہے ۔ 2018 ء میں منعقدہ عام انتخابات میں حکمراں ٹی آر ایس پارٹی کو 88 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ دوسرے جماعتوں کے ارکان اسمبلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت اور ضمنی انتخابات سے ٹی آر ایس نے مزید 16 نشستوں کا اضافہ کرلیا ہے جس کے بعد حکمراں جماعت کی عددی طاقت بڑھ کر 104 تک پہنچ گئی ہے۔ 2018 ء میں اپوزیشن کانگریس کو 19 اسمبلی حلقوں اور مجلس کو 7 اسمبلی حلقوں ، تلگو دیشم کو دو ، بی جے پی ، آل انڈیا فارورڈ بلاک اور ایک آزاد امیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ تاہم کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ جس سے ٹی آر ایس کی عددی طاقت 100 ہوگئی ۔ جس کے بعد اسمبلی میں ٹی آر ایس کی طاقت ناقابل تسخیر ہوگئی ۔ اس کے علاوہ تلگو دیشم کے دو ارکان اسمبلی ایس وینکٹ ویریا، ایم ناگیشور راؤ ، فارورڈ بلاک سے کامیابی حاصل کرنے والے کے چندر اور آزاد رکن اسمبلی راملو نائک بھی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے ۔ سال 2018 ء میں اسمبلی حلقوں حضور نگر سے کامیاب ہونے والے رکن اسمبلی اتم کمار ریڈی 2019 ء میں حلقہ لوک سبھا نلگنڈہ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوگئے جس پر وہ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہوگئے ۔ تب منعقدہ ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کامیاب ہوئی ۔ دوباک اور حضور آباد کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی امیدوار کامیاب ہوئے جس سے ٹی آر ایس کو دو بیٹنگ نشستوں کا نقصان ہوا ۔ ناگر جنا ساگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوکر ٹی آر ایس اپنی نشست کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ اب حال ہی منو گوڑ پر قبضہ کرلیا ، یہ کانگریس کی نشست تھی ۔ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے کانگریس سے مستعفی ہوکر بی جے پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا جس سے بی جے پی کو کوئی نق صان نہیں ہوا مگر کانگریس کو مز ید ایک نشست کا ن قصان ہوگیا ۔ ن