کارپوریٹ ہاسپٹلس اور اسکولوں پر کنٹرول ضروری، بجٹ پر اسمبلی میں بھٹی وکرامارکا کی تقریر
حیدرآباد۔/8 فروری، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے ریاستی بجٹ کو عوام کیلئے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ وزیر فینانس ہریش راؤ نے بجٹ میں اعداد وشمار بڑے پیش کئے لیکن منظوریاں انتہائی کم ہیں۔ اسمبلی میں بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے بجٹ 2023-24 کو حقیقت سے بعید اور اعداد و شمار کے کھیل سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریوینیو میں 40 ہزار کروڑ کے اضافہ کی توقع ظاہر کی گئی ہے لیکن عوام پر ٹیکس کا بوجھ عائد کئے بغیر یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 70 ہزار کروڑ کے اعداد و شمار حکومت کی توقعات پر مبنی ہیں جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں انفرادی آمدنی میں اضافہ سے متعلق حکومت کے دعویٰ کو مضحکہ خیز قراردیا اور کہاکہ اس سلسلہ میں کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں صرف چند افراد کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ غریبوں کا برا حال ہے۔ مکانات کیلئے غریب عوام گذشتہ آٹھ برسوں سے منتظر ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ہریش راؤ نے تقریباً 3 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا لیکن اس میں عوام کیلئے کچھ نہیں ہے۔ کانگریس رکن نے مرکزی بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 45 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں عوام کی بھلائی اور انتخابی وعدوں کو فراموش کردیا گیا۔ تلنگانہ کے ساتھ مرکز کی ناانصافی کا حوالہ دیتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدے فراموش کردیئے گئے۔ حکومت سے سوال کرنے والوں کو سی بی آئی، ای ڈی اور انکم ٹیکس سے ہراساں کیا جارہا ہے۔ بی جے پی مذہبی منافرت کے ذریعہ سماج کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ گوتم اڈانی کے اداروں کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس رکن نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے اہم اثاثہ جات کو اڈانی کے سپرد کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ادارہ ہنڈن برگ نے اڈانی کمپنیوں کی حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے۔ تلنگانہ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبہ جات پر حکومت کی توجہ نہیں ہے۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں جہاں لاکھوں روپئے بل وصول کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس اور کارپوریٹ اسکولوں پر کنٹرول کریں تاکہ عوام کو سہولت ہو۔ر