مجموعی بجٹ کا 12.4 فیصد اقلیتی فلاح و بہبود کیلئے مختص، یوم آزادی تقریب سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔15۔اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاست میں گذشتہ 36ماہ کے دور حکمرانی کے دوران حکومت کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تمام محاذوں پر تیز رفتار ترقی کے اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی قلعہ گولکنڈہ میں 80 ویں یوم آزادی تقریب میں پرچم کشائی کے بعد شرکاء سے خطاب کر رہے تھے ۔چیف منسٹر نے اپنے خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت سماجی انصاف کے معاملہ میں اپنی مثال آپ ہے کیونکہ تلنگانہ میں ریاست کے مجموعی بجٹ کا 12.4فیصد حصہ ریاستی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے مختص کیا ہے جبکہ بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ کے سلسلہ میں ریاستی حکومت نے فیصلہ کرتے ہوئے اسمبلی میں قرار داد منظوری کرواتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کردیا ہے۔اس کے علاوہ ایس سی زمرہ میں شامل 59 طبقات سے تعلق رکھنے والوںکو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مختلف گروپس میں تقسیم کرنے کے اقدامات کے عمل کو مکمل کیاگیا۔ انہو ںنے اپنے خطاب کے دوران سماجی فلاح و بہبود ‘ کسانوں و زرعی مسائل کے حل‘ بی سی طبقات کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات جنہیں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ان کی ترقی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے علاوہ تعلیمی اصلاحات اور کھیلوں کی تربیت کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کی خواتین کو بااختیار بنانے کے مقصد کے ساتھ تیزی سے ترقی کی منزلیں طئے کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کے جا رہے ہیں اور تلنگانہ میں کسانوں کو گذشتہ2یوم کے دوران 9ہزار کروڑ روپئے رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت جاری کئے جاچکے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت ریاست کے آبی حصہ پر کسی بھی طرح کی مفاہمت نہیں کرے گی اور جن پڑوسی ریاستوں کے ساتھ آبی تنازعات جاری ہیں انہیں جلد حل کرتے ہوئے کسانوں کے آنکھوں میں خوشی لانے کے لئے کوشش کی جا رہی ہے۔ اے ریونت ریڈی نے شہر حیدرآباد کے اطراف بالخصوص آؤٹر رنگ روڈ کے بعد ریجنل رنگ روڈ کے تعمیری کاموں میں لائی جانے والی تیزی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ان اقدامات کے ذریعہ ریاست میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات میں مصروف ہے۔ چیف منسٹر نے عثمانیہ دواخانہ کی نئی عمارت کے تعمیری کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے شہر حیدرآباد میں عالمی معیارکی طبی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبہ کے تحت ’دواخانہ عثمانیہ ‘ کی نئی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کیا ہے اور جلد ہی اس عمارت کی تکمیل کے بعد عثمانیہ جنرل ہاسپٹل دنیا کے چنندہ معیاری دواخانوں میں شمار کیا جانے لگے گا۔ انہوں نے تعلیمی اصلاحات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ کے تمام حلقہ جات اسمبلی میں تلنگانہ ماڈل اسکول کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہے اور سرکاری اسکولوں میں بھی ایل کے جی اور یوکے جی کی جماعتوں کا آغاز کیاگیا ہے تاکہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں بھی طلبہ کو بنیادی تعلیمی کی فراہمی کے اقدامات کرتے ہوئے انہیں بھی خانگی اسکولوں کے طلبہ کے مماثل سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جاسکے۔ انہوں نے انٹگریٹڈ اسکولوں کے منصوبہ کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت جلد ہی اس منصوبہ کو بھی عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔انہو ںنے ریاست میں پری پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک سرکاری اسکولوں اور کالجس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اور غذائیت سے بھرپور بریک فاسٹ اور لنچ کے مثبت اثرات برآمد ہونے لگے ہیں۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ ریاست میں ان کی حکومت نے 1لاکھ 80 ہزار لڑکیوں کی شادی کے لئے کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ تعاون کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے کسانوں اور کاشتکاروں کی رہنمائی و رہبری کو بھی یقینی بنانے کے اقدامات میں مصروف ہے۔انہو ںنے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے گذشتہ 36ماہ کے دوران کسانوں کی خوشحالی اور زرعی ترقیات کے لئے مجموی طور پر 1لاکھ70 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔انہوں نے خواتین کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے معاملہ میں شروع کی جانے والی اسکیم ’’مہالکشمی‘‘ کے ذریعہ مفت بس کے سفر کی سہولت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اب تک 335 کروڑ روپئے حکومت تلنگانہ نے خواتین کے سفر کے لئے ادا کئے ہیں اورحکومت کے اس فیصلہ سے ریاست میں خواتین کو زائد از 11ہزار کروڑ کی بچت ہوئی ہے۔چیف منسٹر نے مکان کو غریب خاندانوں کے لئے عزت نفس قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے مکان محض ایک چار دیواری نہیں ہوتی بلکہ سرچھپانے اور عزت کی علامت ہوتی ہے اسی لئے ریاستی حکومت نے ’اندراماں‘ اندلو کے تحت 2لاکھ50 ہزار مکانات کی تعمیر کے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں موجود مکینوں کے لئے حکومت کی جانب سے نئے راشن کارڈس کی اجرائی کے اقدامات کئے جار ہے ہیں اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد 15لاکھ نئے راشن کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں راشن میں باریک چاول دینے کی اسکیم کا ریاستی حکومت نے آغاز کیا ہے تاکہ راشن میں دستیاب چاول کو کالا بازاری کے ذریعہ فروخت کرنے کے بجائے عوام اسے استعمال کرسکیں۔چیف منسٹر نے ریاست میں ڈیجیٹل حکمرانی کے فروغ کے لئے کئے جانے والے اقدامات ‘ منشیات اور غذائی ملاوٹ کے خلاف کاروائیوں کے لئے شعبہ جات کے قیام ‘ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے علاوہ دیگر اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک 72ہزار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کا ریکارڈ قائم کیا ہے اور گروپ I‘گروپII‘گروپ III کے علاوہ گروپ IV کی جائیدادوںپر تقررات کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں موجود ہنرمند نوجوانوں کو اسکل یونیورسٹی کے ذریعہ فراہم کی جانے والی تربیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہنر سیکھنے کے خواہشمند نوجوانوں کو ان کی دلچسپی اور بازار کی مانگ کے مطابق ہنرمند بنانے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔چیف منسٹر نے تلنگانہ میں کی جانے والی بیرونی سرمایہ کاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں نے دلچسپی کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے اور عالمی سطح کی سرکردہ کمپنیوں کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری کا عمل شروع ہوچکا ہے جو کہ ریاست کے نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول کا سبب بنے گا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں ریاستی حکومت عوامی شراکت کے ذریعہ ریاست کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے اقدامات کرے گی ۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ کسی بھی ریاست یا حکومت کی اس وقت تک عملی ترقی ممکن نہیں ہوسکتی جب تک ریاست کے عوام اس کے ساتھ تعاون و اشتراک کو یقینی نہ بنائیں۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت ملک کی معاشی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔چیف منسٹر نے ریاست میں ڈاٹا سنٹر‘ آئی ٹی مراکز‘ مصنوعی ذہانت کے علاوہ دیگر عصری خدمات کی فراہمی کے اقدامات کرنے والی کمپنیوں کو مواقع فراہم کر رہی ہے۔مسٹر ریونت ریڈی قلعہ گولکنڈہ پہنچنے سے قبل پریڈ گراؤنڈ پر واقع’’یادگار شہیداں ‘‘ پہنچے جہاں وردی پوش شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد وہاں سے گولکنڈہ کے لئے روانہ ہوئے۔گولکنڈہ پہنچنے پر چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ مسٹر راما کرشنا راؤ ‘ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر سی وی آنند‘ مشیر حکومت مسٹر کے راما کرشنا راؤ کے علاوہ دیگر سرکردہ عہدیداروں کے علاوہ سیاسی قائدین نے ان کا خیر مقدم کیا۔3