3.5 لاکھ سرکاری ملازمین مقررہ وقت پر تنخواہوں سے محروم، قرض کی ادائیگی میں مشکلات
حیدرآباد۔1۔جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ کی معاشی بدحالی کے منفی اثرات سے اب بھی 159 افراد محفوظ ہیں جنہیں ان کی تنخواہیں وقت پر موصول ہورہی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ زائد از3.5 لاکھ سرکاری ملازمین کے لئے آواز نہیں اٹھا رہے ہیں جبکہ ان میں بیشتر ملازمین کی تنخواہیں ریاستی حکومت کے خزانہ کی بدحالی کے سبب تاخیر سے موصول ہورہی ہیں۔ تشکیل تلنگانہ سے قبل اور تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلے دور حکومت میں ایک نعمت اور محفوظ ملازمت تصور کی جاتی تھی علاوہ ازیں ہر ماہ پابندی سے تنخواہ موصول ہونے کی ضمانت سمجھی جاتی تھی لیکن ریاست میں گذشتہ تین برسوں کے دوران جو معاشی تباہی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے اثرات ابھی عوام پر مرتب نہیں ہورہے ہیں بلکہ سرکاری ملازمین ان حالات سے اب عاجز آنے لگے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں 6کلسٹر کے اعتبار سے تنخواہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی اعتبار سے تنخواہ جاری کی جا رہی ہے ۔حیدرآباد ‘ سکندرآباد کے علاوہ رنگاریڈی میں خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو ہر مہینہ کے آغاز کے ابتدائی ہفتہ میں تنخواہیں موصول ہونے لگ جاتی ہیں لیکن دیگر اضلاع میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی مہینہ کے اواخر تک کی جا رہی ہے جو کہ سرکاری ملازمین کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا جا رہاہے۔ جن سرکاری ملازمین نے بینک سے گھریا گاڑی کے لئے قرض حاصل کیا ہے ان کی اقساط کا وقت گذرجانے تک بھی ان کے کھاتوں میں تنخواہ کی رقم جمع نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے قرض پر اضافی سوداور جرمانہ ادا کرنا پڑرہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں منتخبہ عوامی نمائندوں ارکان اسمبلی کے علاوہ نامزد ارکان قانون ساز کونسل کی جملہ تعداد 159 ہے اور انہیں اپنی تنخواہ کے حصول میں کوئی تاخیر کا سامنا نہیں ہے بلکہ انہیں وقت پر تنخواہوں کی اجرائی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ رکن اسمبلی و رکن قانون ساز کونسل کی تنخواہ 2 لاکھ 75ہزار روپئے ہے اور انہیں 25 ہزار روپئے رہائش کا بھتہ دیا جاتا ہے جو کہ وقت پر ان کے کھاتوں میں جمع ہورہا ہے اسی لئے انہیں سرکاری ملازمین کو ہونے والی تکالیف کا احساس نہیں ہے۔ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے قرضہ جات کی اقساط کی ادائیگی کے مسائل کے علاوہ روزمرہ کی ضروریات پورے کرنے اور مکان کا کرایہ ادا کرنے میں بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سرکاری ملازمین کی یونین اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی تنخواہوں کی اجرائی کے معاملہ میں ہونے والی تاخیر پر مکمل خاموشی اختیار کی جارہی ہے کیونکہ بیشتر محکمہ جات اور اداروں کے علاوہ یونین پر بھی برسراقتدار جماعت سے ملحقہ تنظیموں کا ہی قبضہ ہے اسی لئے وہ حکومت کے خلاف کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔یونین قائدین کے مطابق ریاستی حکومت سے شکایت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن آئندہ انتخابات میں برسراقتدار جماعت ملازمین کی تائید سے محروم ہونے کے خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے کیونکہ بروقت تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب جو مسائل ہورہے ہیں اس سے واقفیت کے باوجود حکومت کوئی کاروائی نہیں کر رہی ہے۔م