اپوزیشن کے منفی رویہ پر تنقید، سرمایہ کاری سے اپوزیشن کے پیٹ میں درد،رویہ میں تبدیلی کا مشورہ
حیدرآباد۔/28 جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت میں تبدیل کرنے کے نشانہ کے ساتھ ان کی حکومت کام کررہی ہے۔ تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے سلسلہ میں ڈاؤس کے ورلڈ اِکنامک فورم اجلاس میں تلنگانہ حکومت کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی اور 20 عالمی سطح کی کمپنیوں نے 178950 کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں۔ سکریٹریٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے سرمایہ کاری سے متعلق اپوزیشن کے شبہات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ بھاری سرمایہ کاری سے کچھ لوگوں کے پیٹ میں تکلیف ہورہی ہے لیکن انہیں حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کیلئے ڈاؤس کا دورہ کیا جبکہ دوسروں نے تلنگانہ کی عوامی رقومات کی بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری کی ہے، ہم میں اور اُن میں یہی فرق ہے کہ ہم بیرونی سرمایہ کاری کو تلنگانہ منتقل کررہے ہیں جبکہ دوسرے عوامی رقومات بیرونی ممالک منتقل کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری سے ٹیکس کی صورت میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ڈاؤس سمٹ میں کئی ریاستوں کے چیف منسٹرس نے شرکت کی لیکن صنعت کاروں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مخالفین دراصل اٹینشن سیکنگ ڈِس آرڈر عارضہ کا شکار ہیں جس کے تحت ساری توجہ خود پر مرکوز کرنے کی مساعی کی جاتی ہے۔ ریاستی وزراء سریدھر بابو، سیتکا ، ٹی ناگیشور راؤ، جوپلی کرشنا راؤ اور سرینواس ریڈی کے ہمراہ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے ڈاؤس میں سرمایہ کاری کے سلسلہ میں معاہدات کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ مزید کئی کمپنیوں نے تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت پر اعتبار کرتے ہوئے صنعت کاروں نے سرمایہ کاری کے معاہدے طئے کئے۔ انہوں نے کمپنیوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت کی موافق صنعت پالیسی کے نتیجہ میں سرمایہ کاری کے حصول میں مدد ملی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 1.78 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدے تلنگانہ کی عوامی حکومت کی اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا حصول کوئی نئی بات نہیں ہے سابق میں کانگریس دور حکومت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد میں سرمایہ کاری کو روکنے کیلئے کافی سازش کی گئی۔ صنعت کاروں میں اندیشے اور خطرات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سرمایہ کاروں نے تلنگانہ حکومت پر مکمل بھروسہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن کو ریاست کی ترقی کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیئے اور اس طرح کی منفی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جامع حکمت عملی کے نتیجہ میں 13 ماہ کے عرصہ میں ایک لاکھ 80 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کے حصول میں کامیابی ملی ہے اور حکومت کی اصل کامیابی ریاست کو ایک ٹریلین ڈالرکی معیشت میں تبدیل کرنے کے بعد ہوگی۔ حکومت کے خلاف بعض گوشوں کی جانب سے چلائی گئی منفی مہم کا سرمایہ کاروں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کو روکنے کیلئے اپوزیشن کی جانب سے منفی تشہیر کی گئی لیکن سرمایہ کاروں نے حکومت پر مکمل بھروسہ کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ معاہدات کے مطابق جلد ہی کمپنیوں کے قیام کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور حکومت اراضیات کے الاٹمنٹ کا عمل جلد ہی مکمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور کے اداروں سے نوجوانوں میں اسکل ڈیولپمنٹ کے فروغ کے معاہدے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ایک لیڈر کو ایک نیا عارضہ لاحق ہوچکا ہے اور وہ ہر معاملہ میں خود کو توجہ کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ یہ عارضہ سماج کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے دس سالہ دور حکومت میں سرمایہ کاری مجموعی طور پر 21 ہزار کروڑ کی ہوئی تھی لیکن کانگریس حکومت اسے سیاسی رنگ نہیں دے رہی ہے کیونکہ حکومت کو ریاست کی ترقی کی فکر ہے۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن کو رویہ میں تبدیلی کا مشورہ دیا اور کہا کہ ریاست کی ترقی کیلئے اپنے تجربات سے حکومت کی مدد کریں۔1