عوام نے ’جنتا کرفیو‘ مکمل کامیاب بنایا، ریاست بھر میں عام زندگی یکلخت تھم گئی ، روزمرہ کی سرگرمیاں رضاکارانہ طور پر معطل ، حیدرآباد کی تمام سڑکیں سنسان
مزید 6 افراد کے معائنے مثبت ،کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد27 ہوگئی
تمام متاثرین بیرونی ممالک سے حیدرآباد پہنچے، تمام کی حالت مستحکم
حیدرآباد۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) خوفناک جراثیمی وباء ’کورونا وائرس‘ کو پھیلنے سے روکنے کی ایک کوشش کے طور پر تلنگانہ میں بھر میں آج ’جنتا کرفیو‘ منایا گیا جو مکمل طور پر کامیاب رہا۔ عوام نے رضاکارانہ طور پر خود کو گھر میں رکھا اور تمام سرگرمیاں یکلخت تھم چکی تھیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں متعدی وباء کووڈ۔ 19 کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر جمعرات کو قوم سے خطاب کے دوران 22 مارچ اتوار کوصبح 7 بجے تا 9 بجے شب ’جنتا کرفیو‘ منانے کی اپیل کی تھی۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ہفتہ کو ایک اہم اجلاس طلب کرتے ہوئے اتوار کو صبح 6 بجے تا پیر کی صبح 6 بجے تک 24 گھنٹے کا عوامی رضاکارانہ کرفیو منانے کی اپیل کی تھی جس کے اثر سے ریاستی دارالحکومت حیدرآباد مکمل طور پر بند رہا اور ہمیشہ مصروف رہنے والی تمام بڑی سڑکیں بالکل سنسان رہیں۔ اضلاع میں بھی یہی صورتحال دیکھی گئی جہاں عوام دن بھر گھروں میں رہے اور ٹریفک کی آمدورفت نہ رہنے کے سبب سڑکیں سنسان رہیں۔ اس دوران تلنگانہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 27 تک پہنچ گئی جب بشمول ایک 50 سالہ خاتون ، 6 افراد کے معائنے مثبت پائے گئے، یہ تمام 6 افراد مختلف بیرونی ممالک سے حیدرآباد پہنچے ہیں۔ ان میں گنٹور کا ایک 24 سالہ غیرشادی شدہ نوجوان بھی شامل ہے جو براہ دوبئی لندن سے یہاں پہنچا تھا۔ کوکٹ پلی کی ساکن ایک 23 سالہ طالب علم جو براہ دوحہ لندن سے شہر پہنچا تھا ، مقامی دواخانہ میں زیرعلاج ہے۔ آندھرا پردیش کے ضلع مشرقی گوداوری میں راجلو کے ساکن 26 سالہ طالب علم کا تلنگانہ کے دواخانہ میں علاج کیا جارہا ہے جو 16 مارچ کو سویڈن سے حیدرآباد پہنچا تھا۔ منی کونڈا کے ساکن 34 سالہ شخص کو بھی کورونا وائرس کا معائنہ مثبت پائے جانے کے بعد سرکاری دواخانہ میں رکھا گیا ہے جو 14 مارچ کو سویڈن سے یہاں پہنچا تھا۔ ضلع بھدرادری کتہ گوڑم کے ایک 23 سالہ نوجوان کو جو 18 مارچ کو لندن سے شہر پہنچا تھا، علاج کیلئے مقامی ہاسپٹل میں رکھا گیا ہے۔ دبئی سے 14 مارچ کو حیدرآباد پہنچنے والی ایک 50 سالہ خاتون کا کورونا وائرس معائنہ مثبت پایا گیا اور وہ دواخانہ میں زیرعلاج ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ تمام متاثرین کی حالت مستحکم ہے۔ کورونا وائرس کے مثبت کیسیس میں اچانک بھاری اضافہ کے پیش نظر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ بھر میں احتیاطی تدابیر کے طور پر 31 مارچ تک مکمل ’لاک ڈاؤن‘ (بند) نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج پرگتی بھون میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ریاست کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جہاں کورونا وائرس کے مثبت کیسیس کی تعداد 27 تک پہنچ گئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ’ہمیں 31 مارچ تک بالکل ویسے ہی جذبہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے جس طرح ہم آج (جنتا کرفیو میں) مظاہرہ کرچکے ہیں، تب ہی ہم اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوں گے۔ تلنگانہ میں 31 مارچ تک ’لاک ڈاؤن‘ رہے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ سے متصلہ تمام بین ریاستی سرحدیں بند رہیں گی اور صرف ضروری اشیاء بشمول ادویات لانے والی گاڑیوں کو ہی ریاست میں داخل ہونے کی اجازت رہے گی۔ عوام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی مدت تک اپنے گھروں ہی میں محفوظ رہیں۔