تلنگانہ میں 60 فیصد مسلمان ذاتی مکانات سے محروم

   

سروے کی چونکا دینے والی رپورٹ ، حکومت اندراماں ہاوزنگ اسکیم کے ذریعہ فائدہ پہونچانے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں جاری ایک حالیہ سروے رپورٹ میں مسلمانوں کی سماجی ، تعلیمی و معاشی پسماندگی کو نمایاں کرتے ہوئے چونکا دینے والے حقائق کا انکشاف کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی سرکاری رپورٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں 60 فیصد مسلمان خاندان ایسے ہیں جن کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں ہے جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ حقائق اس وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے جس میں ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی بنیادی سہولیات سے محرومی کا شکار ہیں ۔ رہائش ، صاف پانی ، برقی ، بیت الخلاء جیسی ضروری سہولیات میں عدم مساوات واضح طور پر دیکھی جارہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کرائے کے مکانات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ جب کہ کئی خاندان تنگ و محدود جگہوں حتی کہ ایک کمرے کے گھروں میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ یہ صورتحال نہ صرف معیار زندگی کو متاثر کررہی ہے بلکہ تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقع پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے ۔ واضح رہے کہ کانگریس کے قائد راہول گاندھی نے تلنگانہ میں پدیاترا کے دوران عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت تشکیل پانے پر ذات پر مبنی طبقاتی سروے کرایا جائے گا ۔ انہوں نے ’ جس کی جتنی آبادی اس کی اتنی حصہ داری ‘ کا بھی وعدہ کیا تھا حکومت کی ترقیاتی و فلاحی اسکیمات میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی دینے کی بات کہی تھی ۔ ریاست میں کانگریس حکومت کے قیام کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ذات پات پر مبنی ایک جامع سروے کروایا جس کے نتائج نے مختلف پسماندہ طبقات کو بھی واضح کردیا ہے ۔ سروے رپورٹ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد اب بھی بنیادی سہولیات ، خصوصی رہائش کے معاملے میں پیچھے ہے ۔ کرائے کے مکانات میں رہنے کا رحجان زیادہ ہے اور ذاتی مکانات کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے ۔ دیگر پسماندہ طبقات کی طرح مسلمان بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ حکومت اس رپورٹ پر سنجیدگی سے عملی اقدامات کریں ۔ خاص طور پر اندرا اماں ہاوزنگ اسکیم کے تحت مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے مکانات فراہم کئے جائیں تاکہ رہائشی مسائل کو حل کیا جاسکے ۔ اگر حکومت واقعی برابر حصہ داری کے اصول پر عمل کرنا چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ پسماندہ طبقات بالخصوص مسلمانوں کے لیے خصوصی اقدامات کریں ۔ یہ سروے نہ صرف ریاست میں موجود عدم مساوات کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ حکومت کے لیے ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مسلمانوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لائے ۔۔ 2/m/b