تلنگانہ میں آر ایس ایس کی مسلم رکنیت سازی مہم

   

مسلم راشٹریہ منچ کا قیام، 10 ہزار مسلم ارکان شامل کرنے کا نشانہ
حیدرآباد۔/3 جولائی، ( سیاست نیوز) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) نے ریاست تلنگانہ میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے مقصد سے نئی حکمت عملی اختیار کرکے آر ایس ایس میں نئے مسلم شعبہ کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا اور تلنگانہ کے تمام اضلاع میں آر ایس ایس کی محاذی تنظیم کے طور پر ’’ مسلم راشٹریہ منچ ‘‘ کو بنیادی سطح سے مضبوط و مستحکم بنانے کے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چار سال قبل صرف دو افراد سے شروع کردہ ’’ مسلم راشٹریہ منچ ‘‘ میں فی الوقت زائد از تین ہزار مسلم ارکان شامل ہیں۔ اور جاریہ سال کے اختتام تک موجودہ زائد از تین ہزار مسلم ارکان کی تعداد کو بڑھا کر زائد از دس ہزار مسلم ارکان کو منچ میں شامل کروانے کی مکمل کوشش کی جائے گی۔ علاوہ ازیں آئندہ ماہ کے دوران ریاست آندھرا پردیش میں مسلم راشٹریہ منچ کے دفتر کا قیام عمل میں لانے اور اس کی سرگرمیوں کو آندھرا پردیش میں وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ منچ کے کارکنوں کے منعقدہ ایک اجلاس سے یہاں خطاب کرتے ہوئے مسٹر اندریش کمار نے کہا کہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت مسلمانوں کی ترقی و بہتری کیلئے کام کرے گی جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ بی جے پی کی بھرپور تائید و حمایت کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر اندریش کمار نے اپنے خطاب کے دوران واضح طور پر کہا کہ قائد مجلس پارٹی مسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمان حیدرآباد کی حیثیت سے مسلسل منتخب ہورہے ہیں۔ لہذا ان سے نمٹتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کیلئے آر ایس ایس ( راشٹرا سویم سیوک سنگھ ) کو شہر حیدرآباد میں مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے مسلم قائدین ورہنماؤں کو مسلم راشٹریہ منچ کے رکن بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مسلم رہنما مولانا شیخ معین الدین شاہ قادری اور ایم اے ستار کنوینر س راشٹریہ مسلم منچ کو ریاست تلنگانہ میں راشٹرا مسلم منچ کی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور فعال و کارکرد بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ اسی دوران شہر کی بعض مسلم تنظیموں نے شہر و ریاستی عوام سے آر ایس ایس کی محاذی تنظیم راشٹریہ مسلم منچ کی سرگرمیوں سے گمراہ نہ ہونے اور راشٹریہ مسلم منچ سے وابستہ نہ ہونے کی پرزور خواہش کی۔