ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارکا کی قیادت میں وزراء اور ملازمین کی 12 گھنٹے طویل بات چیت ثمر آور ثابت ہوئی
حیدرآباد ۔24۔ اپریل (سیاست نیوز)تلنگانہ میں بالآخر آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ۔ آر ٹی سی ملازمین اور ریاستی حکومت کی کابینی سب کمیٹی کے مابین 12 گھنٹے طویل بات چیت کامیاب رہی ۔ حکومت نے ملازمین کے 32 کے منجملہ 12 مطالبات کی تکمیل سے پہلے ہی اتفاق کرلیا تھا ۔ تین اہم مسائل جیسے آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام ‘ آر ٹی سی میں یونین کے احیاء اور پے رویژن کمیشن کے مطالبات پر بہت جلد فیصلہ کا کابینی سب کمیٹی نے تیقن دیا جس کو آر ٹی سی جے اے سی نے قبول کیا اور ہڑتال ختم کرنے سے اتفاق کیا ۔ جے اے سی قائدین نے بتایا کہ ریاست بھر میں آر ٹی سی ملازمین ہفتہ 25 اپریل کی صبح پہلی شفٹ سے کام پر رجوع ہوجائیں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کی قیادت میں کابینی سب کمیٹی نے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے بات کی۔ کابینی سب کمیٹی سے ملاقات سے قبل جے اے سی قائدین نے حکومت کی تشکیل شدہ عہدیداروں کی اعلیٰ سطحی کمیٹی سے مذاکرات کئے۔ بھٹی وکرمارکا کے علاوہ ریاستی وزراء ڈی سریدھر بابو ، پونم پربھاکر ، اے لکشمن کمار اور جی ویویک وینکٹ سوامی نے اعلیٰ عہدیداروں کے ہمراہ آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کا جائزہ لیا۔ چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ اور اسپیشل چیف سکریٹری وکاس راج نے مطالبات پر حکومت کے موقف سے واقف کرایا ۔ کابینی سب کمیٹی کے ساتھ جے اے سی قائدین کی بات چیت میں کئی ایک مطالبات پر حکومت نے مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملاقات خوشگوار رہی اور توقع کی جارہی ہے کہ حکومت کے تیقن پر آر ٹی سی ملازمین ہڑتال سے دستبرداری اختیار کریں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے جے اے سی قائدین سے کہا کہ حکومت نے آر ٹی سی ملازمین سے جو وعدے کئے ہیں ، ان پر بہر صورت عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورکرس کو کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز کرنا چاہئے ۔ مسائل کی یکسوئی بات چیت سے ممکن ہے۔ انہوں نے جے اے سی کے مطالبات پر کہا کہ حکومت نے بعض اہم مطالبات کے سلسلہ میں عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے کر حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد آر ٹی سی کو منافع بخش ادارہ میں تبدیل کر نے کیلئے حکومت نے مساعی کی ہے۔ خواتین کو مفت سفر کی سہولت کے آغاز کے سبعد سے حکومت آر ٹی سی کو معاوضہ ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے آر ٹی سی ڈرائیور شنکر گوڑ کی موت پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ قبل ازیں آر ٹی سی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اسپیشل چیف سکریٹریز وکاس راج ، دانا کشور اور مینجنگ ڈائرکٹر آر ٹی سی ناگی ریڈی سے بات چیت کی ۔ اجلاس میں 32 مطالبات کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے بتایا کہ 32 میں 29 مطالبات پر حکومت نے پہلے ہی اتفاق کرلیا ہے۔ دیگر تین مطالبات پر جلد فیصلہ کا تیقن دیا گیا ہے ۔ حکومت نے آر ٹی سی کو ماہانہ 300 تا 400 کروڑ کی اجرائی سے اتفاق کیا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ آر ٹی سی کی ہڑتال سے 6.5 ملین مسافروں کو دشواریوں کا سامنا ہے جو روزانہ سفر کرتے ہیں۔1/k