وزیر اعظم کو چیف منسٹر کا عنقریب مکتوب، نشستوں کی تعداد 153 کرنے کی خواہش
حیدرآباد۔/10 مئی، ( سیاست نیوز) جموں کشمیر اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے بعد ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیلئے نئی حد بندی کی تجویز کے ساتھ مرکز سے رجوع ہونے کی تیاری کررہی ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014 میں وعدہ کیا گیا کہ دونوں تلگو ریاستوں کی اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے ذریعہ تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ کے سی آر حکومت نے حالیہ عرصہ میں 2023 اسمبلی انتخابات سے قبل نئی حد بندی کیلئے مرکز سے نمائندگی کی تھی لیکن مرکز نے 2031 مردم شماری کی بنیاد پرنئی حد بندی کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 119 ہے اور حکومت اسے بڑھا کر 153 کرنے کے حق میں ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش حکومت موجودہ 175 نشستوں کو 225 کرنے کیلئے مرکز سے نمائندگی کررہی ہے۔ نئی حد بندی کے معاملہ میں بعض اہم رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دستور کی دفعہ 170 کے تحت حلقہ جات کی نئی حد بندی 2031 کی مردم شماری کی بنیاد پر کی جانی ہے۔ توقع ہے کہ نئی حد بندی کا کام 2038 تک مکمل ہوگا۔ مردم شماری 2021 کو کورونا وباء کے پیش نظر ملتوی کیا گیا تھا اور توقع ہے کہ جاریہ سال اس کا آغاز ہوگا۔ لوک سبھا حلقوں کی از سر نو حد بندی کے معاملہ میں تلنگانہ اور بعض جنوبی ریاستوں میں نشستوں کی تعداد میں کمی کا اندیشہ ہے کیونکہ حکومت نے ریاستوں کی آبادی کی بنیاد پر لوک سبھا حلقوں کے تعین کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت چاہتی ہے کہ اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل جموں کشمیر کی طرح تلنگانہ میں جلد مکمل کیا جائے۔ر