تلنگانہ میں انتخابات سے قبل نئی سیاسی جماعتوں کا قیام

   


منوگوڑ میں ٹی آر ایس سے دولت تقسیم کی بدترین مثال : اے مرالی
حیدرآباد۔11۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں انتخابات سے قبل نئی سیاسی جماعتوں کا قائم کیا جانا روایت بنتا جارہا ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد منعقد ہونے جارہے ریاستی اسمبلی کے دوسرے انتخابات سے قبل مزید ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے متعلق اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست میں تلنگانہ جہدکار پروفیسر کودنڈا رام ریڈی نے تلنگانہ تلنگانہ جنا سمیتی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کو چیالنج دینے کی کوشش کی جبکہ 2018 کے بعد ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر محترمہ شرمیلا نے ریاست تلنگانہ میں وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ سابق آئی اے ایس آفیسر اے مرالی نے گذشتہ یوم ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے ذریعہ دولت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ اے مرالی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ منگوڈو ضمنی انتخابات میں جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلنگانہ راشٹر سمیتی نے دولت تقسیم کی ہے وہ انتخابی دھاندلیوں کی بدترین مثال ہے۔ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ کانگریس‘ بھارتیہ جنتا پارٹی ‘ سی پی آئی ‘ سی پی ایم ‘ تلنگانہ جنا سینا ‘ مجلس اتحاد المسلمین کے علاوہ دیگر کئی سیاسی جماعتیںموجود ہیں جو انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور اب ان میں ایک اور سیاسی جماعت کا اضافہ ہونے جا رہاہے۔م