تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ نتائج کے بعد 13 طلبہ کی خودکشیاں

   

ماہرین تعلیم و نفسیات کی تشویش، طلبہ پر دباؤ نہ ڈالنے والدین کو مشورہ
حیدرآباد14 اپریل (سیاست نیوز ) تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ نتائج جاری ہونے کے بعد طلبہ کی خودکشیوں کا بڑھتا سلسلہ شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ گزشتہ تین دنوں مختلف اضلاع میں جملہ 13 طلبہ نے امتحانات میں ناکامی و مایوسی کے باعث اپنی جانیں لے لیں جس سے کئی خاندان غم اور صدمے میں ڈوب گئے ہیں۔ تازہ واقعات میں ضلع سنگاریڈی کے رمیش اور نندنی ضلع نرمل کے مانی وردھن اور بھوکیا آکاش جبکہ ضلع سدی پیٹ سے پی پرتیو شامل ہیں جنہوں نے نتائج سے مایوس ہوکر انتہائی قدم اٹھایا۔ اس سے قبل حیدرآباد کے وارثی گوڑہ کی طالبہ کلیانی، ناچارم کے لکشمیا، میدک کے سائی رام، اٹنور کی سوجنیا ، بھوتپور منڈل کی مورانی، سوریا پیٹ کی سوجنیا اور رنگاریڈی کے ابھی یادو جیسے کئی طلبہ جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان افسوسناک واقعات کے پس منظر میں ماہرین تعلیم اور ماہر نفسیات نے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ امتحانات زندگی کا صرف ایک حصہ ہے۔ پوری زندگی نہیں ہیں۔ طلبہ کو ایک ناکامی پر خود کو ختم کرنے کی بجائے دوبارہ کوشش کی ترغیب دی جانی چاہئے۔ ماہرین نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں اور ناکامی کی صورت انہیں ذہنی سہارا فراہم کریں۔ انہوں نے طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ایک بار ناکام ہونا زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ہے جبکہ سپلیمنٹری امتحانات میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یہ مسلسل واقعات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ تعلیمی دباؤ اور سماجی توقعات طلبہ کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات ڈال رہے ہیں جس کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ 2؍F k/b/