تلنگانہ میں اکٹوبر تک 28,349,57 کروڑ قرض کا حصول

   

ماہانہ اوسطاً 4050 کروڑ کے قرض کا حصول ، محکمہ فینانس کی کاگ کو رپورٹ پیش
حیدرآباد ۔ 10 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت پر دن بہ دن قرض کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال اکٹوبر تک 28,349,57 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا یعنی ماہانہ اوسطاً 4,050 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ حکومت کی آمدنی میں قرض کا تناسب بڑھنا تشویشناک عمل ہے ۔ ریونیو آمدنی اور اخراجات پر اکٹوبر کی رپورٹ ریاستی محکمہ فینانس نے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( کاگ ) کو پیش کی ہے ۔ 7 ماہ کے دوران حکومت کو 90,586,92 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ۔ جاریہ مالیاتی مختلف ذرائع سے 2,21,686 کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ تاہم اکٹوبر تک 40.86 فیصد ( 90,586,92 ) وصول ہوئے ۔ گذشتہ سال اسی وقت 41.93 فیصد آمدنی ہوئی تھی جس میں جاریہ سال 1.07 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ صرف ریونیو آمدنی کے تحت 1,76,126,94 کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ مگر صرف 62,208.76 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے ۔ دوسرے ذرائع کے تحت 45,559.60 کروڑ روپئے آمدنی حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا ۔ تاہم اکٹوبر تک 28,378,16 کروڑ ہی وصول ہوئے ہیں ۔ جس میں 28,349.57 کروڑ روپئے قرض ہیں ۔ یہ قرض جملہ آمدنی کا 31.29 فیصد ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے ہر ماہ اوسطاً 4050 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا ہے ۔ ( ایس او ٹی ) آمدنی کے معاملے میں ریاست کا بہتر مظاہرہ ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال ( ایس او ٹی ) کے تحت 1,06,900,13 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ۔ اکٹوبر تک 54,198.78 کروڑ روپئے وصول ہوئے ۔ وصولی کا تناسب 50.70 فیصد ہے ۔۔ ن